ملفوظات (جلد 5) — Page 285
ملفوظات حضرت مسیح موعود در بار شام) ۲۸۵ موت اور اس کی تلخیوں کا ذکر چل پڑا اس پر موت سے بڑھ کر کون ناصح ہو سکتا ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا ۔ جلد پنجم انسان کے ان موتوں سے عبرت نہیں پکڑتا حالانکہ اس سے بڑھ کر اور ڑھ کر اور کون ناصح ہو سکتا ہے جس قدر انسان مختلف بلاد اور ممالک میں مرتے ہیں اگر یہ سب جمع ہو کر ایک دروازہ سے نکلیں تو کیسا عبرت کا نظارہ ہوتا ہے۔ پھر مختلف امراض اس اس قسم کے ہیں کہ اس میں انسان کی پیش نہیں جاتی۔ ایک دفعہ ایک شخص میرے پاس آیا اس نے بیان کیا کہ میرے پیٹ میں رسولی پیدا ہوئی ہے اور وہ دن بدن بڑھ کر پاخانہ کے راستہ کو بند کرتی جاتی ہے۔ جس ڈاکٹر کے پاس میں گیا ہوں وہ یہی کہتا ہے کہ اگر یہ مرض ہمیں ہوتی تو ہم بندوق مار کر خودکشی کر لیتے آخر وہ بے چارہ اسی مرض سے مر گیا۔ بعض لوگ ایسے مسلول ہوتے ہیں کہ ایک ایک پیالہ پیپ کا اندر سے نکلتا ہے ایک دفعہ ایک مریض آیا اس کی یہی حالت تھی صرف اس کا پوست ہی رہ گیا تھا اور وہ سمجھدار بھی تھا مگر تا ہم وہ یہی خیال کرتا تھا کہ میں زندہ رہوں گا ۔ لے ”الحکم نے ڈائری پر ۳ اکتوبر ۱۹۰۳ء کی تاریخ لکھی ہے جو درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ” البدر نے یکم تا ۳ اکتوبر کے متعلق مندرجہ ذیل نوٹ شائع کیا ہے۔ دو یکم اکتوبر ۱۹۰۳ء کو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام مغرب و عشاء کی نماز با جماعت میں شامل نہیں ہوئے ۔ نصیب اعدا آپ کی طبیعت بیمار تھی ۔ ۲، ۳ اکتوبر کو کوئی ذکر قابل ابلاغ ناظرین نہیں ہوا۔ ۳ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو پھر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام بوجہ علالت طبع شامل جماعت مغرب وعشاء نہ ہو سکے ۔“ سکے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۳۸ مورخه ٫۹اکتوبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۹۸) (مرتب) الحکم میں اس سے پہلے یہ عبارت بھی ہے۔ ” قاعدہ کی بات ہے کہ انسان کو جو چیز مضر ہوتی ہے ایک دوبار کے تجربہ اور مشاہدہ کے بعد اس کو چھوڑ دیتا ہے لیکن ہر روز موت کی وارداتیں ہوتی ہیں اور جنازے نکلتے ہیں مگر ان موتوں سے یہ عبرت حاصل نہیں کرتا ۔“ الحکم جلد ۷ نمبر ۳۸ مورخه ۱۷ اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحه (۳)