ملفوظات (جلد 5) — Page 283
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۳ جلد پنجم ہے کہ میرے حق میں دعا فرماویں۔ آپ نے فرمایا کہ انشاء اللہ تعالیٰ دعا کروں گا دنیا ایسے ہی تفرقہ کی جگہ ہے ہمیشہ موت کو یا درکھو چند روز زندگی ہے اس پر نازاں نہ ہونا چاہیے جو راستی پر ہو اور خدا پر بھروسہ کرنے والا ہو تو خدا اس کے ساتھ ہوتا لو ہے۔ ۴ اکتوبر ۱۹۰۳ء بوقت ظهر ) حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام ظہر کی نماز ادا کر کے تشریف لے جارہے تھے کہ سیٹھ احمد دین صاحب آمدہ از جہلم نے عرض کی کہ گذشتہ ایام میں ایک شخص بیعت کر کے گیا ہے مگر وہ کہتا ہے کہ میری علمی معلومات بہت کم ہیں اور مجھے آپ کے دعاوی کے دلائل اب تک معلوم نہیں ہوئے اس لیے میرے لیے دعا فرمائی جاوے اس پر آپ نے سیٹھ صاحب کو مختصر دلائل اپنے دعاوی پر سنائے کہ اس شخص کو سمجھا دیئے جاویں۔ اور نیز یہ بھی فرمایا کہ خدائی کے مستحق اگر ہو سکتے تھے تو ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہو سکتے تھے۔ کیونکہ آپ کا نہ کوئی بھائی تھا نہ بہن حالانکہ عیسی کے اور بھائی اور بہن تھے۔ ان کمبخت مسلمانوں کو اتنا خیال نہیں آتا کر عیسی کے پانچ بھائی اور دو بہنیں تھیں جو کہ مریم کے پیٹ سے پیدا ہوئی تھیں پس کیا وجہ ہے کہ مریم کو خداؤں کی ماں اور مسیح کے بھائیوں کو خدا نہ کہا جاوے۔ مرکز میں آکر پختگی حاصل کریں ہمیں بہت افسوس ہے کہ بعض لوگ کچے ہی آتے ہیں اور کچے ہی چلے جاتے ہیں حالانکہ یہ ان کا فرض ہے ۔ لے یہ ڈائری بعینہ انہی الفاظ میں الحکم جلدے نمبر ۳۸ صفحہ ۲ مورخہ ۱۷ اکتوبر میں یکم اکتوبر کی لکھی ہے۔ غالب قیاس یہ ہے کہ ”الحکم کو غلطی لگی ہے کیونکہ ” البدر نے لکھا ہے کہ یکم اکتوبر کوحضور علیہ الصلوۃ والسلام بوجہ علالت طبع تشریف نہیں لائے۔ واللہ اعلم بالصواب (مرتب) البدر جلد ۲ نمبر ۳۸ مورخه ۹ اکتوبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۹۸