ملفوظات (جلد 5) — Page 280
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۰ جلد پنجم جوانی کا ہوتا ہے جس میں اس کے حسب حال جذبات کسل و غفلت ہوتی ہے پھر دوسری عمر کا ایک حصہ ہوتا ہے جس میں دغا، فریب ، ریا کاری اور مختلف قسم کے گناہ ہوتے ہیں۔ غرض عمر کا ہر ایک حصہ اپنی طرز کے گناہ رکھتا ہے۔ پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور وہ تو بہ کرنے والے کے گناہ بخش دیتا ہے اور توبہ کے ذریعہ انسان پھر اپنے رب سے صلح کر سکتا ہے۔ دیکھو انسان پر جب کوئی جرم ثابت ہو جائے تو وہ قابل سز اٹھہر جاتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مَنْ يَأْتِ رَبَّه مُجْرِمًا فَإِنَّ لَهُ جَهَنَّمَ الآية (طه: ۷۵) یعنی جو اپنے رب کے حضور مجرم ہو کر آتا ہے اس کی سزا جہنم ہے وہاں نہ وہ جیتا ہے نہ مرتا ہے۔ یہ ایک جرم کی سزا ہے اور جو ہزاروں لاکھوں جرموں کا مرتکب ہو اس کا کیا حال ہو گا لیکن اگر کوئی شخص عدالت میں پیش ہو اور بعد ثبوت اس پر فر دقرارداد جرم بھی لگ جاوے اور اس کے بعد عدالت اس کو چھوڑ دے تو کس قدر احسان عظیم اس حاکم کا ہوگا ۔ اب غور کرو کہ یہ تو بہ وہی بریت ہے جو فرد قرارداد جرم کے بعد حاصل ہوتی ہے تو بہ کرنے کے ساتھ ہی اللہ تعالی پہلے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے کہ کس قدر گناہوں میں وہ مبتلا تھا اور ان کی سزا کس قدر اس کو ملنے والی تھی جو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے معاف کر دی ۔ پس تم نے جو اب تو بہ کی ہے چاہیے کہ تم اس تو بہ کی حقیقت سے واقف ہو کر ان تمام گناہوں سے بچو جن میں تم مبتلا تھے اور جن سے بچنے کا تم نے اقرار کیا ہے ہر ایک گناہ خواہ وہ زبان کا ہو یا آنکھ کا یا کان کا غرض ہر اعضا کے جدا جدا گناہ ہیں ان سے بچتے رہو کیونکہ گناہ ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے گناہ کی زہر وقتاً فوقتاً جمع ہوتی رہتی ہے اور آخر اس مقدار اور حد تک پہنچ جاتی ہے جہاں انسان ہلاک ہو جاتا ہے پس بیعت کا پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ یہ گناہ کے زہر کے لیے تریاق ہے۔ اس کے اثر سے محفوظ رکھتی ہے اور گناہوں پر ایک خط نسخ پھیر دیتی ہے۔ دوسرا فائدہ اس تو بہ سے یہ ہے کہ اس تو بہ میں ایک قوت و استحکام ہوتا ہے جو مامور من اللہ کے