ملفوظات (جلد 5) — Page 278
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۸ جلد پنجم جب تک آسمان سے تریاق نہ ملے تو دل درست نہیں رہتا انسان آگے قدم رکھتا ہے مگر وہ پیچھے پڑتا ہے قدسی صفات اور فطرت والا انسان ہو تو وہ مذہب چل سکتا ہے اس کے بغیر کوئی مذہب ترقی نہیں کر سکتا ہے اور اگر کرتا بھی ہے تو پھر قائم نہیں رہ سکتا۔ ہے ۲۹ ستمبر ۱۹۰۳ء (دربار شام) بیعت لینے کے بعد حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیعت کی غرض مندرجہ ذیل تقریر فرمائی ۔ ہر ایک شخص جو میرے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی بیعت کی کیا غرض ہے؟ کیا وہ دنیا کے لیے بیعت کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے؟ بہت سے ایسے بد قسمت انسان ہوتے ہیں کہ ان کی بیعت کی غایت اور مقصود صرف دنیا ہوتی ہے۔ ورنہ بیعت سے ان کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی اور وہ حقیقی یقین اور معرفت کا نور جو حقیقی بیعت کے نتائج اور ثمرات ہیں ان میں پیدا نہیں ہوتا ان کے اعمال میں کوئی خوبی اور صفائی نہیں آتی نیکیوں میں ترقی نہیں کرتے گناہوں سے ۔ بچتے نہیں ایسے لوگوں کو جو دنیا کو ہی اپنا اصل مقصود ٹھہراتے ہیں یا درکھنا چاہیے کہ دنیا روزی چند آخر کار با خداوند یہ چند روزہ دنیا تو ہر حال میں گذر جاوے گی خواہ تنگی میں گذرے خواہ فراخی میں ۔ مگر آخرت کا معاملہ بڑا سخت معاملہ ہے وہ ہمیشہ کا مقام ہے اور اس کا انقطاع نہیں ہے پس اگر اس مقام میں وہ اسی حالت میں گیا کہ خدا تعالیٰ سے اس نے صفائی کر لی تھی اور اللہ تعالیٰ کا خوف اس کے دل پر مستولی تھا اور وہ معصیت سے تو بہ کر کے ہر ایک گناہ سے جس کو اللہ تعالیٰ نے گناہ کر کے پکارا ہے بچتا رہا تو خدا کا رہا تو فضل اس کی دستگیری کرے گا اور وہ اس مقام پر ہوگا کہ خدا اس سے راضی ہوگا اور وہ اپنے رب سے البدر جلد ۲ نمبر ۳۷ مورخه ۲ را کتوبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۹۰