ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 273 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 273

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۳ جلد پنجم گلی نہیں ۔ ایک گروہ ان کا راتوں کو اٹھ کر دعائیں مانگتا رہا مگر ایک نہ سنی گئی ۔ انسان کا جس قدر معاملہ خدا سے صاف ہو گا اسی قدر فہم بھی صاف ہوگا۔ ہر ایک سفر میں استخارہ مسنون ضرور کر لینا چاہیے۔ ۱۴ ستمبر ۱۹۰۳ء ایک احمدی صاحب نے سوال کیا کہ گاؤں کے لوگ اس ضرورت کے لئے تصویر کا جواز لیے تنگ کرتے ہیں کہ آپ نے تصویر کھچوائی ہے اس کا ہم ان کو کیا جواب دیویں ؟ فرمایا کہ انسان جب دنیاوی ضرورتوں کے لیے ہر وقت پیسہ روپیہ وغیرہ جیب میں رکھتا ہے جن پر تصویر بنی ہوئی ہوتی ہے تو پھر دینی ضرورت کے لیے تصویر کا استعمال کیوں روا نہیں ہوسکتا۔ ان لوگوں کی مثال لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف:(۳) کی ہے کہ خود تو ایک فعل کرتے ہیں اور دوسروں کو اسے معیوب بتلاتے ہیں اگر ان لوگوں کے نزدیک تصویر حرام ہے تو ان کو چاہیے کہ کل مال وزر باہر نکال کر پھینک دیں اور پھر ہم پر اعتراض کریں اور یہ ملاں لوگ جو بڑھ بڑھ کر باتیں کرتے ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ ایک پیسہ کو تو وہ ہاتھ سے چھوڑ نہیں سکتے ۔ ہے ۱۷ ستمبر ۱۹۰۳ء بعض احباب کی طرف سے یہ درخواست جذب اور کشش سچے مذہب کی علامت ہیں ہوں کہ آریوں کی طرف توجہ ہونا چاہیے کہ یہ بہت بڑھتے جاتے ہیں ۔ فرمایا کہ انہوں نے کیا ترقی کرنی ہے۔ وہ مذہب ترقی کرتا ہے جس میں کچھ روحانیت ہوتی ہے البدر جلد ۲ نمبر ۳۵ مورخه ۱۸ ستمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۸۰ البدر جلد ۲ نمبر ۳۶ مورخه ۲۵ استمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۲۸۱