ملفوظات (جلد 5) — Page 270
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٢٧٠ جلد پنجم چنانچہ اس نے اگر مہر لگنے کے اسباب بیان کئے ہیں تو ساتھ ہی وہ اسباب بھی بتلا دیئے ہیں جن سے یہ مہر اٹھ جاتی ہے جیسے کہ یہ فرمایا ہے فَإِنَّهُ كَانَ لِلْأَوَّابِينَ غَفُورًا (بنی اسراءیل: ۲۶) لیکن کیا آریوں کا پرمیشر ایسا ہے کہ تناسخ کی رو سے جو مہر وہ ایک انسان پر لگاتا ہے پھر اسے اٹھا سکے؟ گناہ کا یہ نتیجہ ضرور ہوتا ہے کہ وہ دوسرے گناہ کی انسان کو جرات دلاتا ہے اور اس سے قساوت قلبی پیدا ہوتی ہے حتی کہ گناہ انسان کو مرغوب ہو جاتا ہے لیکن ہمارے خدا نے تو پھر بھی تو بہ کے دروازے کھولے ہیں کہ اگر کوئی شخص نادم ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے تو وہ بھی رجوع کرتا ہے مگر آریوں کے لیے یہ کہاں نصیب؟ ان کا پرمیشر جو مہر لگاتا ہے اسے اکھاڑنے پر تو وہ خود بھی قادر نہیں ہے پس اس میں مسئلہ تقدیر کا اعتراض آریوں پر ہے نہ کہ اہل اسلام پر۔ ہاں تو بہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان زبان سے تو بہ تو بہ کہہ لیوے بلکہ تو بہ ایک موت ہے ایک شخص تائب اس وقت کہا جاتا ہے کہ گذشتہ حالت پر سچے دل سے نادم ہو کر آئندہ کے لیے وعدہ کرتا ہے کہ پھر یہ کام نہ کرے گا اور اپنے اندر تبدیلی کرتا ہے اور جن شہوات ، عادات وغیرہ کا وہ عادی ہوتا ہے ان کو چھوڑتا ہے اور وہ تمام یار دوست اور گلی کوچے اسے ترک کرنے پڑتے ہیں کہ جن کا معاصی کی حالت میں اس سے تعلق تھا گویا تو بہ ایک موت ہے جو وہ اپنے اوپر وارد کرتا ہے جب ایسی حالت میں وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو پھر خدا بھی اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور یہ اس لیے ہے کہ گناہ کے ارتکاب میں ایک حصہ قضا و قدر کا ہے کہ بعض اندرونی اعضا اور قومی کی ساخت اسی قسم کی ہوتی ہے کہ انسان سے گناہ سرزد ہو۔ پس اس لیے ضروری تھا کہ ارتکاب معاصی میں جس قدر حصہ قضا و قدر کا ہے اس میں خدا تعالیٰ رعایت دیوے اور اس بندے کی توبہ قبول کرے اور اسی لیے اس کا نام تو اب ہے۔ لے لو ل البدر جلد ۲ نمبر ۳۴ مورخه ۱۱ استمبر ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۶۶، ۲۶۷