ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 264

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۴ جلد پنجم عیسی پر ایمان لاوے وہ ہی اللہ پر ایمان لانے والا ہے؟ اللہ پر ایمان لانے کے یہ معنے ہیں کہ اسے ان تمام صفات سے موصوف مانا جاوے جن کا ذکر قرآن شریف میں ہے مثلاً رب ، رحمن ، رحیم تمام محامد والا ، رسولوں کا بھیجنے والا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے والا اب آپ ہی بتلاویں کہ قرآن شریف میں لفظ اللہ کے یہ معنے ہیں کہ نہیں؟ پھر جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں مانتا قرآن کو نہیں مانتا تو اس نے کیا اس اللہ کو مانا جسے قرآن نے پیش کیا ہے۔ جیسے گلاب کے پھول سے خوشبو دور کر دی جاوے تو پھر وہ گلاب کا پھول پھول نہیں رہتا اور اسے پھینک د پھینک دیتے ہیں پس اسی طرح اللہ کو ماننے والا وہی ہوگا جو اسے ان صفات کے ساتھ مانے جو قرآن نے بیان کئے ہیں۔ سائل۔ لیکن بعض ہند و آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں اگر چہ برائے نام ہندو ہیں اور عمل بھی ہندوؤں والے تو یہاں چونکہ لفظ ایمان کا ہے کہ جو ایمان لاوے تو پھر وہ مستحق ہیں کہ نہیں کہ ان پر خوف اور حزن نہ ہو۔ فرمایا کہ اقرار اسی وقت صحیح ہو سکتا ہے جبکہ انسان اس پر عمل بھی کرے اگر انسان نماز روزہ وغیرہ کا اقرار تو کرتا ہے مگر فعل ایک دن بھی بجا نہیں لاتا تو اس کا نام اقرار نہ ہوگا اگر آپ کے ساتھ ایک شخص کئی اقرار کرے کہ میں یہ کروں گا وہ کروں گا لیکن عملی طور پر ایک بھی پورا نہ کرے تو کیا تم اس کے اقرار کو اقرار کہو گے؟ سائل۔ چونکہ اس کا اقرار زبان سے تو ہے اس لیے عذاب میں تو ضرور اسے عذاب کی حقیقت رعایت چاہیے۔ فرمایا۔ ہمارا مذہب یہ ہے کہ دنیا میں جو عذاب ملتے ہیں وہ ہمیشہ شوخیوں اور شرارتوں سے ملتے ہیں انبیاؤں اور مامورین کے جس قدر منکر گزرے ہیں ان پر عذاب اسی وقت نازل ہوا جبکہ ان کی شرارت اور شوخی حد سے تجاوز کر گئی اگر وہ لوگ حد سے تجاوز نہ کرتے تو اصل گھر عذاب کا آخرت ہے ور نہ اس طرح سے دیکھ لو کہ ہزاروں کا فر ہیں جو کہ اپنے کاروبار کرتے ہیں اور پھر کفر پر ہی مرتے ہیں مگر دنیا میں کوئی عذاب ان کو نہیں ملتا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ مامور من اللہ کے مقابلے پر آکر شوخی اور