ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 260

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۰ جلد پنجم کیا پتا لگتا ہے اگر اس میں الف لام کی رعایت نہ کی جاوے تو پھر اس سے بہت سے فساد لازم آویں گے اور انسان ضلالت میں جا پڑے گا یہ امر ضروری ہے کہ وحی شریعت اور وحی غیر شریعت میں فرق کیا جاوے بلکہ اس امتیاز میں تو جانوروں کو جو وحی ہوتی ہے اس کو بھی مد نظر رکھا جاوے بھلا آپ بتلاویں کہ قرآن شریف میں جو یہ لکھا ہے کہ وَ أوحى رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ (النحل: ۶۹ ) تو اب آپ کے نزدیک شہد کی مکھی کی وحی ختم ہو چکی ہے یا جاری ہے؟ سائل ۔ جاری ہے ۔ ہے۔ حضرت اقدس ۔ جب مکھی کی وحی اب تک منقطع نہیں ہوئی تو انسانوں پر جو وحی ہوتی ہے وہ کیسے منقطع ہو سکتی ہے۔ ہاں یہ فرق ہے کہ ال کی خصوصیت سے اس وحی شریعت کو الگ کیا جاوے ورنہ یوں تو ہمیشہ ایسے لوگ اسلام میں ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے جن پر وحی کا نزول ہو۔ حضرت مجددالف ثانی اور شاہ ولی اللہ صاحب بھی اس وحی کے قائل ہیں اور اگر اس سے یہ مانا جاوے کہ ہر ایک قسم کی وحی منقطع ہوگئی ہے تو یہ لازم آتا ہے کہ امور مشہودہ اور محسوسہ سے انکار کیا جاوے۔ اب جیسے کہ ہمارا اپنا مشاہدہ ہے کہ خدا کی وحی نازل ہوتی ہے پس اگر ایسے شہود اور احساس کے بعد کوئی حدیث اس کے مخالف ہو تو کہا جاوے گا کہ اس میں غلو ہے خود غزنوی والوں نے ایک کتاب حال میں لکھی ہے جس میں عبداللہ غزنوی کے الہامات درج کئے ہیں ۔ پھر جس حال میں یہ سلسلہ موسوی سلسلہ کے قدم بقدم ہے اور موسوی سلسلہ میں برابر وحی جاری رہی حتی کہ عورتوں کو ہوتی رہی تو کیا وجہ ہے کہ محمدی سلسلہ میں وہ بند ہو۔ کیا اس اُمت کے اخیاران عورتوں سے بھی گئے گزرے ہوئے؟ علاوہ اس کے اگر وحی نہ ہو تو پھر اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : ۷،۶) کے کیا معنے ہوں گے۔ کیا یہاں انعام سے مراد گوشت پلا ؤ وغیرہ ہے یا کہ خلعت نبوت اور مکالمہ الہی وغیرہ جو کہ انبیاؤں کو عطا ہوتا رہا۔ غرضیکہ معرفت تام انبیاؤں کو سوائے وحی کے حاصل نہیں ہو سکتی جس غرض کے لیے انسان اسلام قبول کرتا ہے اس کا مغز یہی ہے کہ اس کے اتباع سے وحی