ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 256 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 256

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۶ جلد پنجم اس پر حضور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حکم اور عدا الصلوۃ والسلام حکم اور عدل نے فرمایا کہ ہر ایک شے کے لیے استاد کی ضرورت ہے ورنہ تم دیکھ لو جس قدر تصانیف ہر ایک فن اور علم کے متعلق موجود ہیں موجود ہیں کیا مصنفین نے اپنی طرف سے کوئی بخل رکھا ہے ہر ایک بات کی بڑی بڑی تفصیل کی ہے اگر بخل کا ظن ہو سکتا ہے تو ایک پر ہوگا دو پر ہوگا نہ لاکھوں پر مگر تا ہم دیکھا گیا ہے کہ علم کا خاصہ ہی یہی ہے کہ بلا استاد کے نہیں آتا اور نبی بھی ایک استاد ہوتا ہے جو کہ خدا کی کلام کو سمجھا کر اس پر عمل کرنے کا طریق بتلاتا ہے دیکھو میں الہام بیان کرتا ہوں تو ساتھ ہی تفہیم بیان کر دیتا ہوں اور یہ عادت نہ انسانوں میں دیکھی جاتی ہے نہ خدا میں کہ ایک علمی بات بیان کر کے پھر اسے عملدرآمد میں لانے کے واسطے نہ سمجھا دے۔ جو استاد کا محتاج نہیں ہے وہ ضرور ٹھوکر کھاوے گا۔ جیسے طبیب بلا استاد کے طبابت کرے تو دھوکا کھاوے گا ایسے ہی جو شخص بلا توصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اگر خود بخود قرآن سمجھتا ہے تو ضرور دھوکا کھاوے گا ۔ فرمایا۔ مفتری تھک جاتا ہے اور اس کا پول خود لوگوں پر ظاہر ہو جاتا ہے اور مفتری کا انجام یا اسے ذلت دامنگیر ہوتی ہے کیونکہ روز بروز کیسے افترا کر سکتا ہے۔ افترا جیسی کچی تھے کوئی نہیں ہوتی حتی کہ شیشہ بھی اتنا کچا نہیں ہوتا جس قدر افترا ہوتا ہے اور چونکہ مفتری کے بیان میں قوت جاذ بہ نہیں ہوتی اس لیے اس کی بد بو بہت جلد پھیل جاتی ہے۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ توریت میں جھوٹے نبی کی یہ علامت لکھی ہے کہ قتل انبیاء کا مسئلہ وہ قتل کیا جاوے اور ادھر ایسی عبارتیں بھی ہیں کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض نبی قتل ہوئے تو پھر وہ علامت کیسے صحیح ہو سکتی ہے؟ فرمایا۔ راستباز کی یہی نشانی ہے کہ جس مطلب کے لیے خدا نے اسے پیدا کیا جب تک وہ پورا نہ ہو لے یا کم از کم اس کے پورا ہونے کی ایسی بنیاد نہ ڈال دے کہ اسے تنزل نہ ہو تب تک وہ نہ مرے۔ مگر ایک کذاب سے یہ بات کب ہو سکتی ہے قتل سے مُراد یہ ہے کہ اس قتل میں ناکامی اور نامرادی ساتھ نہ ہو اور جب ایک انسان اپنا کام پورا کر چکے تو پھر خود مر جاوے تو کیا یا کسی کے ہاتھ