ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 232 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 232

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۲ جلد پنجم کھولا اور جب کھولا ہم نے بیان کر دیا۔ کے ہے یکم اگست ۱۹۰۳ء ایک دوست کے تحریری سوال پر کہ اللہ تعالیٰ شرک کو کیوں معاف گناہ پر مواخذہ کی وجہ ہی وجہ نہیں کرتا اور گناہ پر مواخذہ کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا۔ گناہوں کے مواخذہ کے متعلق یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا سنت اللہ میں یہ داخل ہے یا نہیں؟ وہ ہمیشہ سے مواخذہ کرتا آیا ہے۔ سے گناہ خواہ از قسم صغائر ہوں یا کبائر اس کا مواخذہ ضرور ہوتا ہے اور انسان ہے اور انسان خودا اپنی فطرت میں غور کرے کہ کیا وہ اپنے ماتحتوں اور متعلقین سے کوئی مواخذہ کرتا ہے یا نہیں جب ان سے گناہ سرزد ہوتے ہیں اور وہ کوئی خطا کرتے ہیں۔ یہ فطرتی نقش اس بات پر ایک حجت اور گواہ ہے اور یہ بات کہ شرک کو نہیں بخشا اگر ایک ایک گناہ پر سوال ہو تو پھر بہت بڑی وسعت دے کر اس سوال کو یوں کہنا پڑے گا کہ وہ ہر قسم کے گناہ کیوں معاف نہیں کر دیتا۔ سزا دیتا ہی کیوں ہے؟ یہ غلطی ہے پہلی امتوں پر گناہوں کے باعث عذاب آئے اور اب بھی اللہ تعالی اسی طرح یہ پہلا ل البدر میں ہے۔ غرضیکہ رسول وہی کام کرتا ہے جس کا حکم دیا جاتا ہے۔ جیسے خدا فرماتا ہے فَاصْدَعُ بِمَا تُؤْمَرُ ( الحجر : ۹۵) جس کا حکم نہ دیا جائے اس کے برخلاف کچھ کہنا یا کرنا گستاخی ہے ۔ ( پس یہی وجہ تھی کہ مسیح کے آسمان پر زندہ ہونے کا جو عقیدہ عامہ اہلِ اسلام میں رائج تھا۔ اُسے کتاب میں لکھ دیا گیا اور جب وحی الہی نے اُسے غلط ثابت کیا وہ غلطی ظاہر کر دی گئی ۔ “ ( البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ را گست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۳۴) الحکم جلد ۷ نمبر ۳۱ مورخه ۲۴ را گست ۱۹۰۳ صفحه ۱، ۲ البدر میں ہے۔ فرمایا کہ اگر شرک کو اللہ تعالیٰ بخش دے تو پھر زانی اور ہر ایک فاسق فاجر کو بھی بخش دینا چاہیے اور پھر اس میں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ آیا اللہ تعالیٰ گناہوں کا بدلہ دیتا ہے کہ نہیں اور گناہوں کے بارے میں پہلی اُمتوں سے اللہ تعالیٰ نے کیا سلوک کیا تو اس کے جواب میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکثر امتوں کو گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے عذاب دئے گئے تو پھر شرک جیسے گناہ کی سزا کیوں نہ دی جائے ۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۳۰ مورخه ۱۴ اگست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۳۳)