ملفوظات (جلد 5) — Page 223
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۳ جلد پنجم کے بھی لاتے ہیں کہ فلاں کام دنیا کا ہو جاوے۔ یہ ہو جاوے۔ یہ سچ ہے کہ جو مومن ہو جاتا ہے تو خدا تعالیٰ ہر ایک مشکل کو اس کی آسان کر دیتا ہے مگر سب سے اول معرفت ضروری ہے پھر خدا تعالیٰ خود اس کی ہر ایک ضرورت کا کفیل ہوگا ۔ اے ۲۶ جولائی ۱۹۰۳ء لے احادیث میں جو آیا ہے کہ مسیح موعود کے ہو مسیح موعود کے موعود کے زمانہ میں درازی عمر کا راز زمانہ میں عمریں لمبی ہو جائیں گی۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ موت کا دروازہ بالکل بند ہو جائے گا اور کوئی شخص نہیں مرے گا ۔ بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ مالی ، جانی نصرت میں اس کے مخلص احباب ہوں گے اور خدمت دین میں لگے ہوئے ہوں گے ان کی عمریں دراز کر دی جائیں گی ۔ اس واسطے کہ وہ لوگ نفع رساں وجود ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: ۱۸ ) ۔ یہ امر قانون قدرت کے موافق ہے کہ عمریں دراز کر دی جائیں گی۔ اس زمانہ کو جو دراز کیا ہے یہ بھی اس کی رحمت ہے اور اس میں کوئی خاص مصلحت ہے۔ اس پر حضرت حکیم الامت نے عرض کیا کہ مسلمانوں میں سب سے پہلا مجد د عمر بن عبدالعزیز کو تسلیم کیا ہے وہ کل دو برش تک زندہ رہے ہیں ۔ ) زاں بعد حضرت حجتہ اللہ نے پھر اپنے سلسلہ کلام میں فرمایا کہ محض خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے آج تک ہم کو محفوظ رکھا ہے اور جماعت کو ترقی دے رہا ہے اور اس کے ازدیاد ایمان اور معرفت کے لیے حج و براہین ظاہر کر رہا ہے یہاں تک کہ کوئی پہلو کے رہا تاریکی میں نہیں رہنے دیا۔ ل البدر ۲ جلد نمبر ۲۹ مورخه ۷ را گست ۱۹۰۳ ء صفحه ۲۲۶ ے یعنی بعد از خلافت دو برس زندہ رہے۔ (مرتب)