ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 213

ملفوظات حضرت مسیح موعود الله جلد پنجم جس کا دل مردہ ہو وہ خوشی کا مدار صرف دنیا ایک مؤمن اور دنیا دار کی موت میں فرق کو رکھتا ہے مگر مومن کو خدا سے بڑھ کر اور کوئی تھے پیاری نہیں ہوتی۔ جس نے یہ نہیں پہچانا کہ ایمان کیا ہے اور خدا کیا ہے وہ دنیا سے کبھی آگے نکلتے ہی نہیں ہیں۔ جب تک دنیا ان کے ساتھ ہے تب تک تو سب سے خوشی سے بولتے ہیں بیوی سے بھی خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں مگر جس دن دنیا گئی تو سب سے ناراض ہیں۔ منہ سوجا ہوا ہے ہر ایک سے لڑائی ہے گلہ ہے شکوہ ہے حتی کہ خدا سے بھی ناراض ہیں تو پھر خدا ان سے کیسے راضی رہے وہ بھی پھر ناراض ہو جاتا ہے۔ مگر بڑی بشارت مومن کو ہے ۔ يَآيَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً (الفجر : ۲۹،۲۸) اے نفس جو کہ خدا سے آرام یافتہ ہے تو اپنے رب کی طرف راضی خوشی واپس آ۔ اس خوشی میں ایک کافر ہرگز شریک نہیں ہے۔ رَاضِيَةً کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی مرادات کوئی نہیں رکھتا کیونکہ اگر وہ دنیا سے خلاف مرادات جاوے تو پھر راضی تو نہ گیا اسی لیے اس کی تمام مراد خدا ہی خدا ہوتا ہے اس کے مصداق صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں کہ آپ کو یہ بشارت ملی ۔ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (النصر : ۲) اور اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة : ۴) بلکہ مومن کی خلاف مرضی تو اس کی نزع ( جان کنی ) بھی نہیں ہوا کرتی ایک شخص کا قصہ لکھا ہے کہ وہ دعا کیا کرتا تھا کہ میں طوس میں مروں لیکن ایک دفعہ وہ ایک اور مقام پر تھا کہ سخت بیمار ہوا اور کوئی امید زیست کی نہ رہی تو اس نے وصیت کی کہ اگر میں یہاں مر جاؤں تو مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا اسی وقت سے وہ رو بصحت ہونا شروع ہو گیا حتی کہ بالکل تندرست ہو گیا۔ لوگوں نے اس کی وصیت کی وجہ پوچھی تو کہا کہ مومن کی علامت ایک یہ بھی ہے کہ اس کی دعا قبول ہو۔ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن : ۶۱) خدا کا وعدہ ہے میری دعا تھی کہ طوس میں مروں جب دیکھا کہ موت تو یہاں آتی ہے تو اپنے مومن ہونے پر مجھ کو شک ہوا اس لیے میں نے یہ وصیت کی کہ اہل اسلام کو دھوکا نہ دوں غرضیکہ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً صرف مومنوں کے لیے ہے۔ دنیا میں بڑے بڑے مالداروں