ملفوظات (جلد 5) — Page 208
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۸ جلد پنجم خادم نے خبر پہنچائی کہ تمہاری بکریاں سب مر گئیں آپ نے فرمایا کہ تو یوں کیوں کہتا ہے کہ میری بکریاں مر گئیں وہ تو خدا کی تھیں اس نے اپنی امانت واپس لے لی ۔ پھر شیطان سے خدا نے فرمایا کہ دیکھ میرا بندہ ایوب کیسا صابر ہے اس نے کہا کہ ہاں اس کو یہ خیال ہے کہ اونٹ بہت سے ہیں بکریاں فنا ہو گئیں تو کیا ہو گیا ان سے سب طرح کے کام چل سکتے ہیں۔ خدا نے فرمایا کہ میں نے تجھ کو اونٹوں پر بھی مسلط کیا پھر سب اونٹ فنا ہو گئے اور اسی طرح خادم نے خبر دی تو حضرت ایوب نے وہی کہا کہ میرے نہیں تھے یہ تو خدا کے دیئے تھے اس نے واپس لے لیے پھر کیا افسوس ہے۔ پھر شیطان سے خدا نے فرمایا کہ دیکھا میرا بندہ کیسا صابر ہے۔ اس نے کہا کہ اس کے دل میں تقویت ہے کہ گائیاں بہتیری ہیں ان سے سب کچھ حاصل ہو سکتا ہے آخران پر بھی اسی طرح شیطان کو مسلط کیا گیا۔ وہ بھی فنا ہو گئیں اور حضرت ایوب نے صبر کیا۔ پھر خدا نے فرمایا تو شیطان نے جواب دیا کہ اس کے پاس فرزند بہتیرے ہیں دل میں جانتا ہے کہ کیا ہوا یہ جیتے ہیں تو پھر بہت سا مال اکٹھا ہو جاوے گا خدا نے اس کے فرزندوں کو بھی وفات دے دی۔ پھر شیطان نے کہا کہ خدا یا اس کی تندرستی بہت ہے اس کو اس کی بدولت سب کچھ مل سکتا ہے آخر یہ ہوا کہ نہایت بیمار ہو گئے اور تندرستی بھی جاتی رہی مگر صبر کیا اور پھر خدا نے شیطان سے کہا کہ دیکھا میرا بندہ کیسا صابر ہے۔ شیطان چپ سا ہو گیا مگر ان کی بیوی جو ہمیشہ کھانا پکایا کرتی تھی شیطان اس کو راستہ میں ملا اور ایک بڑھی کی شکل میں اس سے کہا کہ تیرا خاوند ایسا ہے ایسا ہے تو اس کی کیوں خدمت کرتی ہے اس نے یہ بات حضرت ایوب سے کہی انہوں نے کہا کہ وہ تو شیطان تھا تو نے اس کی بات کیوں میرے پاس کہی میں اچھا ہو کر تجھ کو سو بید ماروں گا۔ پھر خدا کی رحمت ہوئی تو ایوب علیہ السلام کے پاس فرشتہ آیا اور اپنے پاؤں مار کر ایک چشمہ نکالا اس میں نہانے کے واسطے کہا حضرت ایوب اس میں نہا کر اچھے ہو گئے اور پھر بیوی کی طرف متوجہ ہوئے تو چونکہ آپ نے قسم کھائی تھی اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ بیوی تمہاری بے قصور ہے صرف ایک جھاڑ و بجائے سو بید کے اس کے بدن سے چھو دو تا کہ قسم جھوٹی نہ ہووے۔ اب دیکھو کہ کتنا صابر ہونا ان کا ثابت ہوا ان کا قصہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں باوجود یکہ