ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 206 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 206

ملفوظات حضرت مسیح موعود طرف سے ہے۔ پھر وہ مسلمان ہو گیا۔ ۲۰۶ جلد پنجم کہتے ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب لڑکوں کی طرف راستہ میں دیکھا کرتے تھے تو اتنی شفقت کیا کرتے تھے کہ وہ لڑکے سمجھا کرتے کہ یہ ہمارا باپ ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ جو عورتیں کسی اور قسم کی ہوں ان کو دوسری عورتیں حقارت کی نظر سے نہ دیکھیں اور نہ مرد ایسا کریں کیونکہ یہ دل دُکھانے والی بات ہے ورنہ اللہ تعالیٰ اس سے مواخذہ کرے گا۔ یہ بہت بری خصلت ہے یہ ٹھٹھا کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت برا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسی بات ہو جس سے دل نہ دُکھے وہ بات جائز رکھی ہے جہاں تک ہو سکے ان باتوں سے پر ہیز کرے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عمل والے کو میں کس طرح جزا دوں گا ۔ فَأَمَّا مَنْ طَغَى وَاثَرَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَى (النزعت: ۳۸ تا ۴۰) جو شخص میرے حکموں کو نہیں مانے گا میں اس کو بہت بری طرح سے جہنم میں ڈالوں گا اور ایسا ہوگا کہ آخر جہنم تمہاری جگہ ہوگی ۔ وَ أَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الباوي (النزعت : ۴۱، ۴۲) اور جو شخص میری عدالت کے تخت کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے گا اور خیال رکھے گا تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کا ٹھکانا جنت میں کروں گا قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عَبَسَ وَ تَوَلَّى أَنْ جَاءَهُ الْأَعْمَى وَ مَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُ يَزَّلَّى أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ الذكرى (عبس: ۲ تا ۵) اس سورۃ کے نازل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت کے پاس چند قریش کے بڑے بڑے آدمی بیٹھے تھے آپ ان کو نصیحت کر رہے تھے کہ ایک اندھا آگیا۔ اس نے کہا کہ مجھ کو دین کے مسائل بتلا دو۔ حضرت نے فرمایا کہ صبر کرو اس پر خدا نے بہت غصہ کیا آخر آپ اس کے گھر گئے اور اسے بلا کر لائے اور چادر بچھا دی اور کہا کہ تو بیٹھ اس اندھے نے کہا کہ میں آپ کی چادر پر کیسے بیٹھوں؟ آپ نے وہ چادر کیوں بچھائی تھی ؟ اس واسطے کہ خدا کو راضی کریں ۔ تکبر اور شرارت بری بات ہے ایک ذراسی بات سے ستر برس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں۔ لکھا ہے کہ ایک شخص عابد تھا وہ پہاڑ پر رہا کرتا تھا اور مدت سے وہاں بارش نہ ہوئی تھی ایک روز بارش ہوئی تو پتھروں پر اور روڑیوں پر بھی ہوئی تو اس کے دل میں اعتراض پیدا ہوا کہ ضرورت تو بارش کی کھیتوں اور باغات کے واسطے ہے