ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 198 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 198

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۸ جلد پنجم بھی ایک دلیل ہے اور آپ اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے جب إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ (النصر : ۲) کا آوازہ دیا گیا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ کس قدر عظیم الشان کامیابی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوئے ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا کہ فوج در فوج لوگ داخل ہو ر ہے ہیں ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ ( النصر : (۴) یعنی وہ رب جس نے اس قدر کامیابی دکھلائی اس کی تسبیح و تحمید کر اور اور انبیاء پر جو انعامات پوشیدہ رہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کھول دیئے گئے اور رحمت کے تمام امور اجلی کر دیئے کوئی بھی مخفی نہ رکھا۔ اس حمد کا ثبوت اس آخری وقت پر آ کر دیا۔ احمد کے معنے بھی حمد کرنے والا ۔ دنیا میں کوئی آدمی بھی ایسا نہیں آیا جو اتنی بڑی کامیابی اپنے ساتھ رکھتا ہو۔ لذت و سرور کی موت اگر ہوئی ہے تو فقط آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی ہوئی ہے اور دوسرے کسی نبی کو بھی میسر نہیں ہوئی۔ یہ خدا کا فضل ہے اس لیے آپ کی عصمت کا یہ ایک بڑا ثبوت ملتا ہے۔ جیسے طبیب اسے کہتے ہیں جو علاج کر کے مریض کو اچھا کر کے دکھلا دیوے ویسے ہی لا اله الا الله سے ہر ایک روحانی مرض کا علاج کر کے آپ نے دکھلایا اور اس لیے دوسری تمام نبوتیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ ہی معلوم ہوتی ہیں ۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الْيَوْمَ يَبِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا (المائدۃ: ۴) آج کا فر نا امید ہو گئے گویا آپ کو کامیابی کے اس اعلیٰ نقطہ تک پہنچادیا کہ کافر نامراد ہو گئے ۔ کیا انجیل میں اس کے مقابل کوئی آیت ہے ہر گز نہیں ۔ مسیح علیہ السلام کو تو فقط ایک یہودیوں کی اصلاح سپر د تھی اور یہ کوئی مشکل کام ل البدر میں ہے۔ اسی حمد کا ثبوت اب اس آخری وقت میں آکر دیا ہے کہ ایک احمد آیا ۔ احمد کے معنی ہیں ”حمد دیا کرنے والا کوئی بھی ایسا آدمی نہیں ہے جو ثابت کرے کہ اس قدر کامیابی کسی اور کو ہوئی ہو۔ خوشی ، پوری مُرادمندی اور لذت کی موت اگر حاصل ہوئی ہے تو صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوئی ہے اور کسی نبی کو ہرگز نہیں ہوئی ۔ یہ خدا کا فضل ہے۔ اس سے پتا لگتا ہے کہ نفس ایسا پاک تھا کہ خدا کا اس قدر فضل ہوا اور آپ کی عصمت کا یہ ایک بڑا ثبوت ہے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخه ۷ ار جولائی ۱۹۰۳ء صفحہ (۲۰۳)