ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 184 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 184

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۸۴ جلد پنجم إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرۃ: ۳۱) سے استنباط ایسا ہو سکتا ہے کہ پہلے سے اس وقت کوئی قوم موجود ہو اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَالْجَانَّ خَلَقْنَهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السموم (الحجر: ۲۸) ایک قوم جان بھی آدم سے پہلے موجود تھی۔ بخاری کی ایک حدیث میں ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ سے خالق ہے اور یہی حق ہے کیونکہ اگر خدا کو ہمیشہ سے خالق نہ مانیں تو اس کی ذات پر (نعوذ باللہ ) حرف آتا ہے اور ماننا پڑے گا کہ آدم سے پیشتر خدا تعالیٰ معطل تھا لیکن چونکہ قرآن شریف خدا تعالیٰ کی صفات کو قدیمی بیان کرتا ہے اسی لیے اس حدیث کا مضمون راست ہے۔ قرآن میں جو کوئی ترکیب ہے وہ ان صفات کے استمرار پر دلالت کرتی ہیں ، لے لیکن اگر آدم سے ابتدائے خلق ہوتی اور اس سے پیشتر نہ ہوتی تو پھر یہ نحوی ترکیب قرآن میں نہ ہوتی ۔ ہے باقی رہی لڑکیوں کی بات کہ ان کے موجود ہوتے حوا کی پیدائش کی کیا ضرورت ہے؟ تو اس طرح سمجھنا چاہیے کہ ممکن ہے کہ جس مقام پر آدم علیہ السلام کی پیدائش ہوئی ہو وہاں کے لوگ کسی عذاب الہی سے ایسے تباہ ہو گئے ہوں کہ آدمی نہ بچا ہو۔ سے دنیا میں یہ سلسلہ جاری ہے کہ کوئی مقام بالکل تباہ ہو جاتا ہے۔ کوئی غیر آباد آباد ہو جاتا ہے کوئی بر باد شدہ پھر از سر نو آباد ہوتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو کہ ابھی تک یورپ والے ٹکریں مار رہے ہیں کہ شاید قطب شمالی میں کوئی آبادی ہو اور تلاش کر کر کے معلوم کر رہے ہیں کہ کون سے قطعات زمین اول آباد تھے اور پھر تباہ ہو گئے ۔ پس ایسی صورت میں ان مشکلات میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ ایمان لانا چاہیے کہ خدا تعالیٰ رب، رحمن، رحیم، مالک یوم الدین ہے اور ہمیشہ سے ہی ہے۔ جاندار ایک تو حکون سے پیدا ہوتے ہیں اور ایک تکوین سے ممکن ہے کہ آدم کی پیدائش کے وقت اور مخلوقات ہو اور اس کی جنس سے نہ ہو یا اگر ہو بھی تو اس میں ا نقل مطابق اصل ۔ الحکم میں یہ الفاظ ہیں۔ ” قرآن شریف میں جو ترکیب ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے استمرار پر دلالت کرتی ہے ۔ (الحکم جلدے نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ار جولائی ۱۹۰۳ صفحه ۱۵) الحکم سے ۔ پس آدم علیہ السلام سے پہلے مخلوق ضرور تھی ۔“ سے الحکم میں سے ۔ ”کوئی آدمی نہ بچا ہو۔“ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۵) الحکم جلد ۷ نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰ جولائی ۱۹۰۳ء صفحه ۱۵)