ملفوظات (جلد 5) — Page 179
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۹ جلد پنجم صرف قیامت پر لگاتے ہیں اور جب پوچھو تو کہتے ہیں کہ اس دنیا کی نسبت کوئی پیشگوئی قرآن شریف میں نہیں ہے۔ ۲۵ جون ۱۹۰۳ء رات کو بعد از نماز عشاء چند مستورات نے بیعت کی۔ حضرت اقدس نے ان کو ربوبیت تامہ ایک جامع وعظ فرمایا۔ جس قدر حصہ اس کا قلمبند ہوا وہ ہر یہ ناظرین ہے۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ قدم قدم پر خدا تعالیٰ کی پرورش ضرور ہوتی ہے۔ دیکھو بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو کس طرح خدا تعالیٰ اس کے ناک، کان وغیرہ غرض اس کے سب اعضا بناتا ہے اور اس کے دو ملازم مقرر کرتا ہے کہ وہ اس کی خدمت کریں۔ والدین بھی جو مہربانی کرتے ہیں اور پرورش کرتے ہیں وہ سب پرورشیں بھی خدا تعالیٰ کی پرورشیں ہوتی ہیں۔ بعض لوگ اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سوا اوروں پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں اگر فلاں نہ ہوتا تو میں ہلاک ہو جاتا۔ میرے ساتھ فلاں نے احسان کیا۔ وہ نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ (الفلق : ۲) میں اس خدا تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جس کی تمام پرورشیں ہیں۔ رب یعنی پرورش کنندہ وہی ہے اس کے سوا کسی کا رحم اور کسی کی پرورش نہیں ہوتی حتی کہ جو ماں باپ بچے پر رحمت کرتے ہیں دراصل وہ بھی اسی خدا کی پرورشیں ہیں اور بادشاہ جو رعایا پر انصاف کرتا ہے اور اس کی پرورش کرتا ہے وہ سب بھی اصل میں خدا تعالیٰ کی مہربانی ہے۔ ان تمام باتوں سے اللہ تعالیٰ یہ سکھلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے برابر کوئی نہیں سب کی پرورشیں اسی کی ہی پرورشیں ہوتی ہیں بعض لوگ بادشاہوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں نہ ہوتا تو میں تباہ ہو جاتا اور میرا فلاں کام فلاں بادشاہ نے کر دیا وغیرہ وغیرہ یا درکھو ایسا کہنے والے کافر ہوتے البدر جلد ۲ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۳ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۸۵