ملفوظات (جلد 5) — Page 177
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۷ جلد پنجم پناہ کے نیچے اپنے آپ کو لے آوے جو خدا کی پناہ نہیں چاہتا ہے وہ مغرور اور متکبر ہے ۔ لے ۱۸ جون ۱۹۰۳ء ( بوقت ظهر ) ہمارے مخدوم مولانا عبدالکریم صاحب جو کہ عرصہ قریب پانچ سال سے حضرت اقدس کے مبارک قدموں میں جاگزیں ہیں ان کو ایک شادی کی تقریب پر شمولیت کے واسطے ایک دو احباب سیالکوٹ سے تشریف لائے تھے مگر خدا تعالیٰ نے جو عشق اور محبت مولوی صاحب کو حضرت اقدس کے ساتھ عطا کیا ہے وہ ایک پل کے واسطے بھی ان مبارک قدموں سے جدائی کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اس کا اثر یہ ہے کہ جب کوئی احمدی بھائی قادیان آ کر پھر رخصت طلب کرتے ہیں تو مولوی صاحب کی ان کو یہی نصیحت ہوتی ہے کہ اس مقام کو اتنی جلدی نہ چھوڑو۔ دیکھو تمہارے اوقات دنیوی کا روبار میں کس قدر گزرتے ہیں اگر اس کا ایک عشرِ عشیر بھی تم دین کے واسطے یہاں گذار و تو تم کو پتا لگے اور آنکھ کھلے کہ یہاں کیا ہے جو ہمیں ایک پل کے واسطے علیحدہ نہیں ہونے دیتا غرضیکہ مولوی صاحب موصوف نے سیالکوٹ جانے سے انکار کیا اور وہی بات اس وقت حضرت اقدس کے سامنے پیش ہوئی۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس مقام کو خدا تعالیٰ نے امن والا بنایا ہے اور متواتر کشوف والہامات قادیان دارالامان سے ظاہر ہوا ہے کہ جو اس کے اندر داخل ہوتا ہے وہ امن میں ہوتا ہے۔ تو اب ان ایام میں جبکہ ہر طرف ہلاکت کی ہوا چل رہی ہے اور گو کہ طاعون کا زور اب کم ہے مگر سیالکوٹ ابھی تک مطلق اس سے خالی نہیں ہے۔ اس لیے اس جگہ کو چھوڑ کر وہاں جانا خلاف مصلحت ہے۔ آخر کار تجویز یہ قرار پائی کہ جن صاحب کی شادی ہے وہ اور لڑکی کی طرف سے اس کا ولی ایک شخص وکیل ہو کر یہاں قادیان میں آجاویں اور یہاں نکاح ہو۔ حضرت صاحب کی دعا بھی ہو گی اور خود مولوی عبدالکریم صاحب کیا بلکہ حضرت اقدس بھی اس تقریب سے نکاح میں شامل ہو جاویں گے۔ کیا اچھا البدر جلد ۲ نمبر ۲۳ مورخه ۲۶ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۷۸