ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 134 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 134

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۴ جلد پنجم کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔ میں نے مولوی صاحب سے سنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں۔ میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔ نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہیے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لیے اپنی زبان میں بھی دعا ئیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہوگا اور سب مشکلات خدا چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یاد الہی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى (طه: ۱۵) سوال ۔ قبرستان میں جانا جائز ہے یا نا جائز ؟ قبرستان میں جانا جواب ۔ نذرونیاز کے لیے قبروں پر جانا اور وہاں جاکر منتیں مانگنا درست نہیں ہے ہاں وہاں جا کر عبرت سیکھے اور اپنی موت کو یاد کرے تو جائز ہے۔ قبروں کے پختہ بنانے کی ممانعت ہے البتہ اگر میت کو محفوظ رکھنے کی نسبت سے ہو تو حرج نہیں ہے یعنی ایسی جگہ جہاں سیلاب وغیرہ کا اندیشہ ہو اور اس میں بھی تکلفات جائز نہیں ہیں ۔ کے ۰ ۱ رمئی ۱۹۰۳ء (صبح کی سیر ) له فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ (الشورى : ٨) مامور کا زمانہ ایک قیامت ہوتا ہے خدا تعالی کی قدرت ہے کہ جیسے ایک طرف بغض وحسد کرنے والے ہمارے دشمن موجود ہیں ۔ ویسے ہی ان کے بالمقابل وہ لوگ بھی ہیں جو کہ اسی تحریک سے راہ راست کی طرف آجاتے ہیں ۔ مامور کا زمانہ بھی ایک قیامت ہے ۔ جیسے لوگ یوم جزا کے دن دو فریقوں میں تقسیم ہو جاویں گے یعنی فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ (الشوری:۸) ایسے ہی مامور کی بعثت کے وقت بھی دو فریق ہو جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيمَةِ (ال عمران : ۵۶) جیسے تقریباً سات سو برس پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کہا گیا اور مسیح علیہ السلام کے وقت پورا ہو ا ویسا ہی آپ کے تیرہ سو برس بعد چودھویں صدی الحکم جلد ۷ نمبر ۲۰ مورخه ۳۱ مئی ۱۹۰۳ء صفحہ ۹