ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 83

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۳ جلد چهارم معراج سمجھتا تھا۔ مگر اسلام نے اس کو رد کیا اور انسان کو بے قید بنانا نہ چاہا کہ وہ نہ نماز کی ضرورت سمجھے نہ روزہ کی ۔ غرض کسی پابندی کے نیچے ہی نہیں رہے اور ایک وحشی جانور کی طرح مارا مارا پھرے ۔ اب تک بھی یہ لوگ موجود ہیں ۔ وجودی مذہب جو بد قسمتی سے پھیلا ہوا ہے دراصل ایک اباحتی فرقہ ہے اور نماز روزہ کی کوئی ضرورت نہیں سمجھتا اور منوعات اور محرمات سے پر ہیز نہیں کرتا۔ اس لئے اسلام نے یہ بھی جائز نہ رکھا۔ رہبانیت اور اباحت انسان کو اس صدق اور وفا سے دور رکھتے عقیدہ کفارہ کے نقصانات تھے جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے ان سے الگ رکھ کر اطاعت الہی کا حکم دے کر صدق اور وفا کی تعلیم دی جو ساری روحانی لذتوں کی جاذب ہیں ۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جو شخص کسی سہارے پر چلتا ہے وہ سست الوجود اور کاہل ہوتا ہے جیسے بچے اپنے والدین کی سر پرستی کے نیچے اپنی فکر معاش یا ضروریات کے پیدا کرنے سے کاہل اور لا پروا ہوتے ہیں۔ یا عیسائی لوگ جس طرح پر اعمال میں مستعد نہیں ہو سکتے کیونکہ کفارہ کا مسئلہ جب ان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ مسیح نے ان کے سارے گناہ اٹھا لئے ۔ پر سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کون سی چیز ہو سکتی ہے جو ان کو اعمال کی طرف متوجہ کرے۔ اعمال کا مدعا تو نجات ہے اور یہ ان کو بلا مشقت ومحنت صرف خونی مسیح پر اتنا ایمان رکھنے سے ( کہ وہ ہمارے لئے مر گیا۔ ہمارے گناہوں کے بدلہ لعنتی ہوا ) مل جاتی ہے تو اب نجات کے سوا اور کیا چاہیے؟ پھر ان کو اعمال حسنہ کی ضرورت کیا باقی رہی ۔ اگر کفارہ پر ایمان لا کر بھی نجات کا خطرہ اور اندیشہ باقی ہے تو یہ امر دیگر ہے کہ اعمال کئے جائیں لیکن اگر نجات خون مسیح کے ساتھ ہی وابستہ ہے تو کوئی عقلمند نہیں مان سکتا کہ پھر ضرورت اعمال کی ت کے ساتھ ہی وابست سے تو نقل نہیں مان سکتا کہ پھر ضرورت کیا باقی ہے؟ روافض بھی سہارے ہی پر چلتے ہیں اور اپنی جگہ عیسائیوں کی طرح امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر اعمال کی کوئی ضرورت ہے تو فقط اتنی کہ ان کے مصائب کو یاد کر کے آنکھوں سے آنسوں گرا لئے یا کچھ سینہ کوبی کر لی ۔ سارے اعمال حسنہ کی