ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 60 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 60

ملفوظات حضرت مسیح موعود h جلد چهارم جب کسی کا علاج کرتا ہے تو جب تک اسے ایک صراط مستقیم ہاتھ نہ آوے علاج نہیں کر سکتا۔ اسی طرح تمام وکیلوں اور ہر پیشہ اور علم ہر پیشہ اور علم کی ایک صراط مستقیم ہے کہ جب وہ ہاتھ آ جاتی ہے تو پھر کام آسانی سے ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر ایک صاحب نے اعتراض کیا کہ انبیاء کو اس دعا کی کیوں ضرورت تھی وہ تو پیشتر ہی سے صراط مستقیم پر ہوتے ہیں؟ تلميذ الرحمن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ وہ یہ دعا ترقی مراتب اور درجات کے لئے طلب کرتے ہیں بلکہ یہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تو آخرت میں مومن بھی مانگیں گے کیونکہ جیسے اللہ تعالیٰ کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح اس کے پاس درجات اور مراتب کی ترقی کی بھی کوئی حد نہیں ہے۔ پھر اصل مضمون تقویٰ پر فرمایا کہ ) تقومی کی حقیقت متقی بننے کے واسطے یہ ضروری ہے کہ بعد اس کے کہ موٹی باتوں جیسے زنا، چوری، تلف حقوق ، ریا، مجب، حقارت ، بخل کے ترک میں پکا ہو تو اخلاق رذیلہ سے پر ہیز کر کے ان کے بالمقابل اخلاق فاضلہ میں ترقی کرے ۔ (اس کے لئے حضرت اقدس کی تصنیف اسلام کی فلاسفی اور کشتی نوح مطالعہ کرنی چاہیے لوگوں سے مروّت، خوش خلقی ، ہمدردی سے پیش آوے اور خدا تعالیٰ کے انسان متقی ساتھ سچا وفا اور صدق دکھلاوے۔ خدمات کے مقام محمود تلا مقام محمود تلاش کرے۔ ان باتوں سے انسان کہلاتا ہے اور جو لوگ ان باتوں کے جامع ہوتے ہیں ۔ وہی اصل متقی ہوتے ہیں ( یعنی اگر ایک ایک خُلق فرداً فرداً کسی میں ہو تو اسے متقی نہ کہیں گے جب تک بحیثیت مجموعی اخلاق فاضلہ اس میں نہ ہوں ) اور ایسے ہی شخصوں کے ۔ کے لئے لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (البقرة: ۶۳ ) ہے ۔ اور اس کے بعد ان کو کیا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ایسوں کا متوتی ہو جاتا ہے جیسے کہ وہ فرماتا ہے وَ هُوَ يَتَوَلَّى لے الحکم میں یہ عبارت یوں ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ غیر محدود ہے اس کے فیضان و فضل بھی غیر منقطع ہیں ۔ اس لئے وہ ان غیر محدود فضلوں کے حاصل کرنے کے لئے اس دعا کو مانگتے تھے ۔“ الحکم جلد ۷ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۱۲)