ملفوظات (جلد 4) — Page 50
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۰ جلد چهارم خوبصورتی خیال کرتے ہیں اور ہمیں اس سے ایسی سخت کراہت آتی ہے کہ سامنے ہو تو کھانا کھانے کو جی نہیں چاہتا۔ داڑھی کا جو طریق انبیاؤوں اور راست بازوں نے اختیار کیا ہے وہ بہت پسندیدہ ہے۔ البتہ اگر بہت لمبی ہو جاوے تو کٹوا دینی چاہیے۔ ایک مشت رہے۔ خدا نے یہ ایک امتیاز مرد اور عورت کے درمیان رکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب نے عرض کی کہ حضور آج کل ایک کتاب اُسترے کی مضرت پلیگ گائڈ چھپی ہے وہ کل ڈاکٹروں کے پاس روانہ کی گئی اس میں ایک ہدایت ہے کہ ان طاعون کے ایام میں داڑھی ہرگز نہ منڈوانی چاہیے۔ کیونکہ اگر ذرا بھی زخم ہوا۔ تو طاعونی مادہ اس پر بہت جلد اثر کرتا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ استروں سے بھی بعض وقت زہر اور آتشک کے امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ہمیشہ استرے کے استعمال کرنے میں بہت احتیاط لازم ہے اور استرے کا استعمال منہ پر تو بہت خطرناک ہے۔ ہاں غیر مناسب بال جیسا کہ بعض رخسار پر ہوتے ہیں یا داڑھی کے زوائد وغیرہ یہ سب کاٹ دینے چاہئیں (نہ کہ منڈوانے )۔ پھر حضرت اقدس نے عرب صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ پیشگوئی کی تفہیم میں احتیاط رات کو جو آپ نے سال کیا تھاوہ بے تک بہت ضروری تھا۔ کیونکہ ایسے ملکوں : لکوں میں جہاں لوگ ناواقف ہیں سمجھانے کے لئے ضرور علم چاہیے۔ پھر اس مضمون کا مختصر خلاصہ حضرت نے اعادہ فرمایا کہ جو گذشتہ شب میں ہم درج کر چکے ہیں اور اس پر یه ایزادی فرمائی که پیشنگوئیوں کے بارے میں یہ خیال ہر گز نہ کریں کہ وہ ایسی کھلی کھلی ہوں کہ نام لے لے کر بتلایا جاوے ورنہ پھر یہی سوال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو سکتا ہے اور ویسے ہی ثبوت کی ضرورت