ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 48

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ۷ جلد چهارم پھر اس کے متعلق آپ نے جو فرمایا۔ بارہا الحکم میں درج ہوا ہے۔ آخر اس لطیفہ پر اس کو ختم کر دیا کہ مریم صفات والے کے لئے ضرور ہے کہ وہ عیسویت کے رنگ میں تبدیل ہو جاوے۔ اگر اس آیت میں صرف مریم کا لفظ ہوتا تو بہت سے افراد ہو سکتے تھے ۔ مگر خدا تعالیٰ نے احصان فرج اور نفخ روح کی قید لگا کر بتا دیا ہے کہ ایک ہی شخص ہوگا۔ یہ ایک استعارہ تھا جوکسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ اس کے لئے یہی وقت مقدر تھا۔ پھر عجیب تر بات یہ ہے کہ مریم ، نفخ روح اور میرا نام عیسی رکھنے کے الہاموں میں صرف نو یا دس ماہ کا فاصلہ ہے جو کہ مدت حمل ہے۔ ان تمام ترقیات کا سلسلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔ کسی کو کیا خبر ہے کہ کس طرح ایک بیج زمین کے اندر کیا کیا بن کر آخر کار ایک پتا بن جاتا ہے۔ لے ے جنوری ۱۹۰۳ء حضرت اقدس حسب دستور سیر کے ظاہر و باطن میں اسلام کا نمونہ اختیار کرنا چاہیے لئے تشریف لائے اور روانہ ہوتے ہی عرب صاحب نے انگریزی قطع وضع پر کچھ ذکر چھیڑا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ انسان کو جیسے باطن میں اسلام دکھلانا چاہیے ویسے ہی ظاہر میں بھی دکھلانا چاہیے ۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہونا چاہیے کہ جنہوں نے آج کل علیگڑھ میں تعلیم پا کر کوٹ پتلون وغیرہ سب کچھ ہی انگریزی لباس اختیار کر لیا ہے حتی کہ وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کی عورتوں کی وضع بھی انگریزی عورتوں کی طرح ہو (بقیہ حاشیہ ) بعد نفس لوامہ والے جو کہ فرعون کی بیوی ہیں۔ یعنی ان کو نفس ہمیشہ ملامت کرتا رہتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ امارہ سے ان کو آزادی ملے یہ کم ہوتے ہیں اور پھر ان سے کم نفس مطمعتہ والے یعنی مریم بنت عمران۔ جس زمانے کا وعدہ خدا نے کیا ہوا تھا ضرور تھا کہ اس میں ایک نفس مریم کی طرح ہوتا اور اس زمانے میں خدا نے فیہ میں ضمیر مذکر کی استعمال کی ہے تا کہ اشارہ اس طرف ہو کہ ایک مرد ہو گا جو صفات مریمیت حاصل کر کے عیسیٰ ہوگا۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۶ رفروری ۱۹۰۳ء صفحه ۲۰) الحکم جلدے نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۸ تا ۱۰