ملفوظات (جلد 4) — Page 46
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶ جلد چهارم نے ایک کتاب لکھی ہے اور اس نے بتایا ہے کہ کون کون سے فقرے عیسی علیہ السلام نے ان کی کسی کتاب سے لئے ہیں۔ غرض سچی تعلیم کی نشانی یہ ہے کہ وہ انبیاء کی تعلیم سے مشابہ ہو۔ ان کا سچی تعلیم کی علامت اصول ایک ہی ہوتا ہےاور اختلاف جب ہوتا ہے کہ اصل میں ہو۔ ا در نه فروع میں اگر کوئی اختلاف ہو تو وہ اختلاف نہیں کہلاتا اور اگر فروع میں اختلاف بھی ہو تو اس کی مثال ایسی ہے کہ گرمیوں میں اور کپڑا ہوتا ہے سردیوں میں اور ۔ فروعات میں تبدیلیاں ضرور ہوا کرتی ہیں ۔ ایسا ہی مثلاً ایک زمانہ تھا کہ شراب جیسی خبیث چیز کو لوگ بے دھڑک پیتے تھے اور پھر وہ زمانہ آپ کا آ گیا کہ اس کی بیخ کنی کی جاوے۔ حضرت دانیال کو کہا گیا کہ آپ شراب پئیں تا کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو جاوے اور بادشاہ وقت کا حکم ہے کہ جس کا چہرہ سرخ نہ ہوگا۔ وہ مارا جاوے گا نہ اس پر آپ نے فرمایا کہ تم لوگ شراب پیونگر میں ساگ پات کھاتا ہوں اور دیکھنا کہ کس کا چہرہ زیادہ سرخ ہوتا ہے ۔ چنانچہ جب آپ آئے تو سب سے زیادہ آپ کا چہرہ سرخ تھا۔ اپنے کو شریعت مسیح نے تو رات کی شریعت بحال رکھی پوچھا کیا کرین نے اپنے شاگردوں کے ماننے کا کیوں حکم نہ دیا ؟ فرمایا کہ وہ خود شریعت کو مانتے تھے اور شاگردوں کو ماننے کے لئے فرمایا۔ اگر ان کے وقت میں شریعت منسوخ ہوگئی ہوتی تو یہ کیوں فرماتے کہ فریسی اور فقیہ جو موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں وہ جو کہیں سوکرو اور جو وہ کریں وہ نہ کرو۔ اس سے صاف معلوم ہوا کہ شریعت توریت کی بحال تھی اور انجیل میں بذات خود کوئی شریعت نہیں تھی۔ عرب صاحب نے سوال کیا کہ مسیح موعود کے متعلق مسیح موعود ہونے کا ذکر قرآن میں قرآن میں کہاں کہاں ڈر کہاں ذکر ہے؟ فرمایا۔ سورۃ فاتحہ۔ سورہ نور ۔ سورہ تحریم وغیرہ میں ۔ سورۃ فاتحہ میں تو اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة: 1) سورۃ نور میں وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ ۔۔۔ الآية ( النور : ۵۶) سورة تحريم