ملفوظات (جلد 4) — Page 416
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز جمعہ دعا کے ساتھ منارة اتح کا سنگ بنیا د رکھنا تعلق بالله ہمارا خدا ناطق اور ہماری دعائیں سنتا ہے مجاہدات ۲۹۹ ۹۴ میرے اعضاء تو تھک جاتے ہیں لیکن دل نہیں تھکتا وہ چاہتا ہے کہ کام کئے جاؤ ان لوگوں کو کیا علم ہے کہ ہم کس طرح راتوں کو کام کر کر کے کتابیں چھپواتے ہیں رات، آدھی رات تک بیٹھا رہا۔ نیت تو ساری رات کی تھی مگر کام جلدی ہی ہو گیا ۷۳ ا ۷۲ ولد جلد چهارم میں کوئی بات نہیں کرتا جب تک خدا تعالیٰ اجازت نہ دے ۲۵۷ مقصد بعثت بعثت کا مقصد اور غرض ۵۶،۲۶ آپ کی بعثت کے اسباب میں سے ایک سبب مسلمانوں کی موجودہ حالت ہے ۹۳ اس نے مجھے بھیجا ہے تا میں عملی سچائیوں اور زندہ نشانات کے ساتھ اسلام کو غالب کروں ۹۴ ۳۲۷،۲۰۶ بعثت ماموریت کا مقصد ہم بھی تو اس کے دین اور اس کے گھر یعنی خانہ کعبہ کی حفاظت کے واسطے آئے ہیں خدا تعالیٰ نے مجھے اسی لیے مامور کیا ہے کہ تقویٰ پیدا ہو ۲۵۸ ۲۲۸ قلمی جہاد عربی تصانیف کی اہمیت لد۔ مولوی ثناء اللہ امرتسری کے رقعہ کا تحریری جواب ۶۵ عید کے مبارک موقع پر ایک اشتہار کی اشاعت دعوی اور مقام ہم اپنے آپ کو امت محمد یہ میں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع 1 ہمارا سب سے بڑا کام تو کسر صلیب ہے ۳۴۳ اپنی صداقت پر یقین کامل لغات جو دل میں آتے ہیں میرا دل اس وقت گواہی دیتا ہے کہ اندر فرشتہ بول رہا ہے میرا یہ حال ہے کہ اگر مجھے جلتی آگ میں بھی ۷۲ ۲۷۱ میں فنا شدہ کہتے ہیں ہم ہر روز (فرشتوں کو ) دیکھتے ہیں ہمارا رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کتاب قرآن کے سوا اور طریق سنت کے سوا نہیں دعوی وحی والہام مجھے ہر ایک امر بذریعہ وحی والہام بتلایا جاتا ہے ۵۳ A ۲۶۵ ۲۶۶ ڈالا جائے تو بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ ضائع نہ ہوں گا ہم جو کام کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت اور اس کے اشارہ سے کرتے ہیں اپنی صداقت پر یقین ۲۴۶ ۲۱۳ ،۱۹ دلائل صداقت قرآن شریف کے نصوص پر میرے دعوی کو سوچیں صداقت کے دلائل ۹۳ ،۹۲ ۲۱۳ ،۶۲