ملفوظات (جلد 4) — Page 34
ملفوظات حضرت مسیح موعود الله له جلد چهارم ہے کہ جب فانی خوش حالی نہ ہو بلکہ سچی خوش حالی ہو ۔ بعض آدمیوں کو بیماریوں سے بعض کو دوسری تکالیف سے خدا کی طرف رجوع ہوتا ہے۔ پھر سوال ہوا کہ اگر ساری نماز کو اپنی زبان میں پڑھ لیا مادری زبان میں نماز اور دعا ئیں جاوے تو کیا حرج ہے۔ فرمایا کہ خدا کے کلام کو اسی کی زبان میں پڑھنا چاہیے اس میں بھی ایک برکت ہوتی ہے خواہ فہم ہو یا نہ ہو اور رادعیہ ماثورہ بھی ویسے ہی ۔ ی ویسے ہی پڑھے جیسے آنحضرت کی زبان مبارک سے نکلیں ۔ یہ ایک محبت اور ۔ تعظیم کی نشانی ہے۔ باقی خواہ ساری رات دعا اپنی زبان میں کرتا رہے۔ انسان کو اؤل محسوس کرنا چاہیے کہ میں کیسے مصیبت زدہ ہوں اور میرے اندر کیا کیا کمزوریاں ہیں۔ کیسے کیسے امراض کا نشانہ ہوں اور موت کا اعتبار نہیں ہے۔ بعض ایسی بیماریاں ہیں کہ ایک آدھ منٹ میں ہی انسان کی جان نکل جاتی ہے۔ سوائے خدا کے کہیں اس کی پناہ نہیں ہے۔ ایک آنکھ ہی ہے جس کی تین سو امراض ہیں ۔ ان ا۔ ان خیالوں سے نفسانی زندگی کی اصلاح ہو سکتی ہے اور پھر ایسی اصلاح یافتہ زندگی کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک دریا سخت طغیانی پر ہے۔ مگر یہ ایک عمدہ مضبوط لوہے کے جہاز پر بیٹھا ہوا ہے اور ہوائے موافق اسے لے جا رہی ہے۔ کوئی خطرہ ڈوبنے کا نہیں لیکن جو شخص یہ زندگی نہیں رکھتا اس کا جہاز بودا ہے۔ ضرور ہے کہ طغیانی میں ڈوب جاوے۔ عام لوگوں کی نماز تو برائے نام ہوتی ہے۔ صرف نماز کو اٹیرتے ہیں اور جب نماز پڑھ چکے تو پھر گھنٹوں تک دعا میں رجوع کرتے ہیں۔ ہ جب تک حرام خوری وغیرہ نہ چھوڑے تب تک مغفرت الہی ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کی کہ جب تک حرام خوری وغیرہ الہی نماز کیا لذت دیوے اور کیسے پاک کرے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ إِنَّ الْحَسَنَتِ يُذْهِبْنَ السَّيَّاتِ (هود: ۱۱۵) بھلا جو اوّل ہی پاک ہو کر آیا اسے پھر نماز کیا پاک کرے گی۔ حدیث میں ہے کہ تم سب مُردہ ہو مگر جسے خدا زندہ کرے۔ تم سب بھوکے ہو مگر جسے خدا