ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 29 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 29

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹ جلد چهارم آثار سے پتا لگتا ہے کہ جہاں جہاں طاعون پڑی ہوئی ہے ابھی تک لوگ اس سے متاثر نہیں ہوئے ۔ ابھی کل امرتسر سے ایک اشتہار آیا ہے کہ تین سالہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی اور اس پر استہزا کیا ہے حالانکہ ان کو چاہیے تھا کہ وہ انتظار کرتے کہ ہم کیا لکھتے ہیں کم سے کم ہم سے دریافت ہی کر لیتے کہ ہم کیا کہتے ہیں ۔ لوگوں کو بھی شرم نہیں آتی جو کہ ان کے گالیوں سے بھرے ہوئے اشتہار پڑھتے ہیں کیا مولویوں کی پاکیزگی کا یہی نمونہ ہے ان لوگوں کی بڑی کامیابی یہی ہے کہ ممبر پر چڑھ کر نثر اور نظم پڑھ دی ۔ سمجھ میں نہیں آتا ۔ بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے خود ہی توڑے تو توڑے۔ جہلم کے سفر پر فرمایا کہ اشاعت کا بہتر طریق میری طبیعت ہمیشہ شور و غوغا سے جو کثرت ہجوم کے باعث ہوتا ہے متنفر ہے ایسے لوگوں کے ساتھ مغز خوری کرنی بے فائدہ ہے وہی وقت انسان کسی علمی فکر میں صرف کرے تو خوب ہے خدا تعالیٰ نے ہماری اشاعت کا طریق خوب رکھا ہے۔ ایک جگہ بیٹھے ہیں نہ کوئی واعظ ہے نہ مولوی نہ لیکچرار جولوگوں کو سنا تا پھرے۔ وہ خود ہی ہمارا کام کر رہا ہے بیعت کرنے والے خود آ رہے ہیں بڑے امن کا طریق ہے۔ ۵ جنوری ۱۹۰۳ء بروز دوشنبه (بوقت ظهر ) اس وقت حضور علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو مذہبی آزادی اور جہاد کی حقیقت کچھ سرحد کے لوگوں کی جہاد کے بارے میں اپنی کا ذکر چل پڑا۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ غلط مذہبی امور میں آزادی ہونی چاہیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرۃ: ۲۵۷) کہ دین میں کسی قسم کی زبردستی نہیں ہے۔ اس قسم کا فقرہ انجیل میں کہیں بھی نہیں ہے۔ لڑائیوں کی ل البدر جلد ۲ نمبر ۱ ، ۲ مورخه ۲۳، ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۲، ۳