ملفوظات (جلد 4) — Page 332
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۲ جلد چهارم یعنی جو خدا کا متقی اور اس کی نظر میں متقی بنتا ہے اس کو خدا تعالیٰ ہر ایک قسم کی تنگی سے نکالتا اور ایسی طرز سے رزق دیتا ہے کہ اسے گمان بھی نہیں ہوتا کہ کہاں سے اور کیوں کر آتا ہے۔ خدا کا یہ وعدہ برحق ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ خدا اپنے وعدوں کا پورا کرنے والا اور بڑا رحیم کریم ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا بنتا ہے وہ اسے ہر ذلّت سے نجات دیتا ہے اور خود اس کا حافظ و ناصر بن جاتا ہے۔ مگر وہ جو ایک طرف دعوی اتفا کرتے ہیں اور دوسری طرف شاکی ہوتے ہیں کہ ہمیں وہ برکات نہیں ملے ان دونوں میں سے ہم کس کو سچا کہیں اور کس کو جھوٹھا ؟ خدا تعالیٰ پر ہم کبھی الزام نہیں لگا سکتے إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (ال عمران: ۱۰) خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کا خلاف نہیں کرتا۔ ہم اس مدعی کو جھوٹا کہیں گے۔ اصل یہ ہے کہ ان کا تقویٰ یا ان کی اصلاح اس حد تک نہیں ہوتی کہ خدا کی نظر میں قابلِ وقعت ہو۔ یا وہ خدا کے متقی نہیں ہوتے لوگوں کے متقی اور ریا کار انسان ہوتے ہیں سوان پر بجائے رحمت اور برکت کے لعنت کی مار ہوتی ہے جس سے سرگرداں اور مشکلات دنیا میں مبتلا رہتے ہیں۔ خدا تعالیٰ متقی کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ وہ اپنے وعدوں کا پکا اور سچا اور پورا ہے۔ رزق بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں یہ بھی تو ایک رزق ہے کہ بعض متقین کے لئے رزق اور صبح سے سلام سے شام تک ٹوکری ڈھوتے اڈھوتے ہیں اور برے حال سے شام کو دو تین آنے ان کے ہاتھ میں آتے ہیں یہ بھی تو رزق ہے مگر لعنتی رزق ہے نہ رزق مِنْ حَيْثُ لَا يحتسب - حضرت داؤ د زبور میں فرماتے ہیں کہ میں بچہ تھا جوان ہوا۔ جوانی سے اب بڑھا پا آیا مگر میں نے کبھی کسی متقی اور خدا ترس کو بھیکھ مانگتے نہ دیکھا اور نہ اس کی اولاد کو در بدر دھکے کھاتے اور ٹکڑے مانگتے دیکھا یہ بالکل سچ اور راست ہے کہ خدا اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرتا اور ان کو دوسروں کے آگے البدر سے ۔ ” کیا یہ بھی رزق ہے جو کہ کس قدر ذلت سے حاصل ہوتا ہے ۔“ ( البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه (۸۳)