ملفوظات (جلد 4) — Page 329
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۹ جلد چهارم اور طرح طرح کی بداعمالیوں میں مبتلا تھے۔ ان کو حیوانیت سے انسانیت میں اسلام ہی لایا۔ ہر طرف اس کی مخالفت ہوئی لوگوں نے دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ پھر بھی وہ تمام کام پورے ہو کر رہے جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے اور کوئی فرد بشر بھی اس کا بال نہ بگاڑ سکا۔ حتی کہ ندا آگئی الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدة : ٤ ) ۲۳ / مارچ ۱۹۰۳ء (قبل از عشاء) جیسے کہ بعض لوگوں کا دستور ہے کہ جب ہندو مسلمانوں : میں کوئی ہندوؤں سے گفتگو کا طریق گفتگو ہوتو گاؤ خوری وغیرہ باتوں پر بحث ہوا کرتی ہے اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ اصل اشیاء میں حلت ہے اب دنیا میں کروڑ ہا اشیاء ہیں کوئی کچھ کھاتا ہے اور کوئی کچھ۔ اس لیے ایسی باتوں میں پڑنا مناسب نہیں ہوا کرتا۔ چاہیے کہ ایسے مباحثات میں ہمیشہ اسلام کی خوبیاں اور صداقت بیان کی جائے اور ظاہر کیا جاوے کہ کن کن نیک اعمال کی تعلیم اسلام نے دی ہے کن مہلکات سے بچایا ہے۔ گاؤ خوری کے مسائل وغیرہ بیان کرنے سے کیا فائدہ؟ جو اسلام کو پسند کرے گا۔ وہ خود گا ؤ خوری کو بھی پسند کرے گا جس بات کا فساد اس کے نفع سے بڑھ کر ہو اس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے ایک بزرگ نے عرض کی کہ حضور میں نے اپنی ملازمت سے پہلے یہ منت مانی ختم اور فاتحہ خوانی تھی کہ ج میں ملازم ہوجاؤں گا و در آن نیرو پی کے حساب سے نکال کر تو آدھ اس کا کھانا پکوا کر حضرت پیران پیر کا ختم دلاؤں گا۔ اس کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا کہ خیرات تو ہر طرح اور ہر رنگ میں جائز ہے اور جسے چاہے انسان دے مگر اس فاتحہ خوانی ل البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۲ البدر جلد ۲ نمبر ۱۱ مورخه ۳ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۸۲، ۸۳