ملفوظات (جلد 4) — Page 25
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵ جلد چهارم کی مگر اب بتائیں کہ ان کی ہنسی کا کیا جواب ہوا ؟ اجنبی لوگ اگر نہ مانیں تو نہ سہی مگر ہماری جماعت جو دن رات نشانات کو نات کو دیکھتی ہے اسے چاہیے کہ اپنی تبدیلی کرے۔ جو شخص امن کے زمانہ میں خدا سے ڈرتا ہے وہ بچایا جاتا ہے۔ ڈرنے والے زمانہ میں تو ہر ایک ڈرتا ہے جب سونٹا اٹھایا جاوے تو اس سے بھیڑ ، بکری، کتا ، بلی سب ڈرتے ہیں۔ انسان کی اس میں کون سی خوبی ہے یہ تو اس حالت میں ان سے جاملا ۔ ورنہ اس کی دانشمندی اور دور بینی کا یہ تقاضا ہونا چاہیے تھا کہ پہلے ہی سے ڈرتا۔ بعض گاؤں میں سخت تباہی ہو چکی ہے یہاں تک کہ گھروں کے گھر مقفل ہو گئے ۔ جب زور سے پڑتی ہے تو پھر کھا جانے والی آگ کی طرح ہوتی ہے۔ ایک بار بلاد شام میں پڑی تھی تو جانوروں تک کی صفائی اس نے کر دی تھی ۔ یہ بڑی خطرناک بلا ہے ۔ اس سے بے خوف ہونا نادانی ہے۔ حقیقی ایمان ایک موت ہے۔ جب تک انسان اس موت کو اختیار نہ کرے ۔ دوسری زندگی مل نہیں سکتی ۔ ۔ جو لوگ نری بیعت کر کے چاہتے ہیں کہ خدا کی گرفت سے بچ جائیں وہ تقویٰ کی اہمیت غلطی کرتے ہیں۔ ان کو ٹس نے دھوکا دیا ہے۔ دیکھو طبیب جس وزن تک مریض کو دوا پلانی چاہتا ہے اگر وہ اس حد تک نہ پیوے تو شفا کی امید رکھنی فضول ہے۔ مثلاً وہ چاہتا ہے کہ دس تولہ استعمال کرے اور یہ صرف ایک ہی قطرہ کافی سمجھتا ہے یہ نہیں ہو سکتا پس اس حد تک صفائی کرو اور تقوی اختیار کرو جو خدا کے غضب سے بچانے والا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رجوع کرنے والوں پر رحم کرتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا میں اندھیر پڑ جاتا۔ انسان جب متقی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اور اس کے غیر میں فرقان رکھ دیتا ہے اور پھر اس کو ہر تنگی سے نجات دیتا ہے نہ صرف نجات بلکه يَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: ۴) ۔ پس یا د رکھو جو خدا سے ڈرتا ہے خدا اس کو مشکلات سے رہائی دیتا ہے اور انعام واکرام بھی کرتا ہے اور پھر متقی خدا کے ولی ہو جاتے ہیں۔ تقویٰ ہی اکرام کا باعث ہے کوئی خواہ کتنا ہی لکھا پڑھا ہوا ہو وہ اس کی عزت و تکریم کا باعث نہیں اگر متقی نہ ہو۔ لیکن اگر ادنی درجہ کا آدمی بالکل اتی ہو مگر متقی ہو وہ