ملفوظات (جلد 4) — Page 318
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۸ جلد چهارم او دوسو آیتیں شامل ہوتی ہیں ۔ ایجادی معنے کرنے والوں کا منہ اس سے بند ہوجاتا ہے۔ ۱۸ مارچ ۱۹۰۳ء (مجلس قبل از عشاء) بعد مغرب گرمی کو محسوس کر کے اپنے احباب سے مشورہ کیا کہ اب موسم بدلا ہوا ہے اس لیے اگر مناسب ہو تو او پر چل بیٹھیں چنانچہ احباب نے اس سے اتفاق کیا اور اسی وقت تمام احباب اور حضرت اقدس اوپر بالائی مسجد میں تشریف لے گئے ۔ اپنے شہ نشین پر بیٹھ کر ابوسعید صاحب سے فرمایا که اگر آپ چلے گئے ہوتے تو اوپر کا جلسہ کیسے دیکھتے اور یہ کہاں نصیب ہونا تھا۔ اس اثناء میں نواب صاحب تشریف لائے ۔ حضرت نے فرمایا۔ مدت کے بعد آج پھر نواب صاحب کا چہرہ نظر آیا ہے۔ آگے تو ایک گھر سے نکل کر دوسرے گھر میں جا بیٹھا کرتے اور اندھیرے میں چہرہ بھی نظر نہ آتا تھا۔ بیٹھے بیٹھے آپ نے ذکر فرمایا کہ فراغت جیسے ایک مرض ہوتی ہے کہ اس میں جب تک مکیاں مارتے رہیں تو آرام رہتا ہے۔ اسی طرح فراغت میرے واسطے مرض ہے ایک دن بھی فارغ رہوں تو بے چین ہو جاتا ہوں اس لیے ایک کتاب شروع کر دی ہے جس کا نام حقیقت دعا رکھا ہے ایک رسالہ کی طرز پر لکھا ہے۔ دعا دعا ایسی شے ہے کہ جب آدم کا شیطان سے جنگ ہو ا تو اس وقت سوائے دعا کے اور کوئی حربہ کام نہ آیا۔ آخر شیطان پر آدم نے فتح بذریعہ دعا کے پانی رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرُ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَسِرِينَ (الاعراف: ۲۴) اور آخر میں بھی دجال کے مارنے کے واسطے دعا ہی رکھی ہے۔ گویا اول بھی دعا اور آخر بھی دعا ہی دعا ہے۔ حالت موجودہ بھی یہی چاہتی ہے تمام اسلامی طاقیتں کمزور ہیں ۔ اور ان موجودہ اسلحہ سے وہ کیا کام کر سکتی ہیں؟ اب اس کفر وغیرہ ا۔ وہ پر غالب آنے کے واسطے اسلحہ کی ضرورت بھی نہیں ۔ آسمانی حربہ کی ضرورت ہے۔ ۱ ، ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۷ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحہ ۷۷ ا، واله