ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 301

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۱ ۱۴ / مارچ ۱۹۰۳ء (قبل از نماز عشاء) جلد چهارم مفتی صاحب نے اخبار سول ملٹری میں طاعون کا مضمون حکام کو نیکی کی تلقین کرنی چاہیے پڑھ کرسنایا اس مضمون کون ک حضرت نے فرمایا کہ کر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا لفظ ہر گز منہ پر نہیں لاتے حالانکہ اگر حاکم کے منہ سے ایک بات نکلتی ہے تو ہزاروں آدمیوں پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ بٹالہ کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ ایک اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر جو کہ ایک دیسی آدمی تھا اس کے منہ سے یہ بات نکلی کہ نماز پڑھنی چاہیے۔ اس پر بہت سے مسلمانوں نے نماز شروع کر دی۔ اسی طرح کبھی گورنمنٹ کی طرف سے یہ تاکید ہو کہ یہ لوگ خدا کی طرف رجوع کریں تو دیکھئے پھر لوگوں کی کیا تبدیلی ہوتی ہے مگر اس وقت امراء لوگ ایسے فسق و فجور میں مبتلا ہیں کہ گویا یہ ان کے نطفہ کا ایک جزو بن گیا ہے۔ عورتوں کے حقوق فرمایا که اس کے بعد مفتی محمد صادق صاحب نے ایک مضمون سول ملٹری گزٹ سے سنایا جو کہ اسلامی عورتوں کے حقوق وغیرہ پر تھا۔ اس پر حضرت اقدس نے ابھی کچھ دن ہوئے تھے کہ آنحضرت کی شان میں ایک گندہ مضمون سنایا گیا تھا اب خدا نے اس کے مقابلہ پرفرحت بخش مضمون بھیج دیا ہے خدا کا فضل ہے کہ ہر ہفتہ ایک نہ ایک بات ایسی نکل آتی ہے جس سے طبیعت کو ایک ترو تازگی مل جاتی ہے۔ اس مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام میں عورتوں کو وہی حقوق دیئے ہیں جو کہ مردوں کو دیئے گئے ہیں ۔ حتی کہ اسلامی عورتوں میں پاکیزہ اور مقدس عورتیں بھی ہوتی ہیں اور ولیہ بھی ہوتی ہیں ان سے خارق عادت امور سر زد ہوتے ہیں اور جو لوگ اسلام پر اس بارہ میں اعتراض کرتے ہیں۔ وہ غلطی پر ہیں۔ اس پر حضرت اقدس نے عورتوں کے بارے میں فرمایا کہ مرد اگر پارسا طبع نہ ہو تو عورت کب صالح ہو سکتی ہے۔ ہاں عورتوں کی اصلاح کا طریق مرا در بارسا نے مو و صورت بھی صالح ہو تی ہے اگر مرد خود صالح بنے تو عورت بھی صالح بن سکتی ہے قول