ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 294

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۴ جلد چهارم ایسے لوگ صابر ہوتے ہیں اور صابروں کے واسطے خدا نے بے حساب اجر رکھے ہوئے ہیں ۔ لے مُهْتَدُون سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خدا کے منشا کو پالیا اور اس مُهْتَدُونَ سے مراد کے مطابق عمل درآمد کرنے لگ گئے ۔ ایسے ہی لوگ تو ولی ہوتے ہیں ۔ انہی کو تو لوگ قطب کہتے ہیں یہی تو غوث کہلاتے ہیں پس کوشش کرو کہ تم بھی ان مدارج عالیہ کو حاصل کرنے کے قابل ہو سکو۔ خدا تعالیٰ نے تو انسان سے نہایت تنزل کے رنگ میں دوستانہ برتاؤ کیا ہے۔ دوستانہ تعلق کیا ہوتا ہے یہی کہ کبھی ایک دوست دوسرے دوست کی بات کو مان لیتا ہے اور کبھی دوسرے۔ مرے سے اپنی بات منوانا چاہتا ہے چنانچہ خدا تعالیٰ بھی ایسا ہی کرتا ہے چنانچہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمُ (المومن : ۶۱) اور إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۔۔۔۔ الآية (البقرة: ۱۸۷) سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ انسان کی بات کو مان لیتا ہے اور اس کی دعا کو قبول فرماتا ہے اور دوسری جگہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي ۔۔۔۔ الآیۃ سے اور وَلَنَبْلُونَكُمْ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ ہماری دعا کو قبول نہیں کرتا یا اولیاء لوگوں پر طعن کرتے ہیں کہ ان کی فلاں دعا قبول نہیں ہوئی۔ اصل میں وہ نادان اس قانون الہی سے نا آشنا محض ہوتے ہیں۔ جس انسان کو خدا سے ایسا معاملہ پڑا ہو گا وہ خوب اس قاعدہ سے آگاہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے مان لینے کے اور منوانے کے دونمونے پیش کئے ہیں ۔ انہی کو مان لینا ایمان ہے تم ایسے نہ بنو کہ ایک ہی پہلو پر زور دو۔ ایسا نہ ہو کہ تم خدا کی مخالفت کر کے اس کے مقررہ قانون کو توڑنے کی کوشش کرنے والے بنوں کے ل البدر میں مزید یوں لکھا ہے۔ ”یہی تکالیف جب رسولوں پر آتی ہیں تو اُن کو انعام کی خوشخبری دیتی ہیں اور جب یہی تکالیف بدوں پر آتی ہیں اُن کو تباہ کر دیتی ہیں۔ غرض مصیبت کے وقت قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (البقرة: ۱۵۷) پڑھنا چاہیے کہ تکالیف کے وقت خدا تعالیٰ کی رضا طلب کرے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخه ۲۰ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۶۷) البدر میں لکھا ہے۔ ”۔ لکھا ہے۔ ” مومن کو مصیبت کے وقت میں کملین نہیں ہونا غمگین نہیں ہونا چاہیے۔ وہ نبی سے بڑھ کر نہیں : ھ کر نہیں ہوتا ۔ البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخه ۲۰ مارچ ۱۹۰۳ ء صفحه ۶۷)