ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 240

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۴۰ جلد چهارم بعض بادشاہوں کی معدلت گستری کے متعلق ذکر ہوا۔ آپ نے فرمایا کہ عادل گورنمنٹ ہماری گورنمنٹ ، ہم نے اسے غور سے دیکھا ہے کہ نازک معاملات میں بھی ، بلا تحقیق کے کوئی کارگذاری نہیں کرتی ۔ بغاوت جیسے خطر ناک معاملات میں تو بلا تحقیق اور فرد جرم اور ثبوت کے سوا گرفت کی نہیں جاتی۔ تو دوسرے معاملات میں بھلا کہاں ایسا کرنے لگی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اور حکام وقت ہیں کہ ان کے نزدیک انسان تو گاجر مولی کی طرح بنے ہوئے ہیں کسی نے شکایت کی بس پکڑا اور قتل کر دیا۔ کوئی ضرورت نہیں کہ ثبوت کافی بہم پہنچایا جاوے یا کوئی لمبی تحقیقات کی جاوے۔ دیکھئے ہمارا مقدمہ پادری والا بھی تو ایک بغاوت کے ہی رنگ میں تھا کیونکہ ایک پادری نے جو ان کے مذہب کا لیڈر اور گرو مانا جاتا تھا اس نے ظاہر کیا تھا کہ گو یا ہم نے اس کے قتل کا منصوبہ کیا ہے اور پھر اس پر بڑے بڑے اور پادریوں کی سفارشیں بھی تھیں مگر بلا تحقیق کے ایک قدم بھی نہ اٹھایا گیا اور آخر کا ر قوم کی پروانہ کر کے ہمیں بری کیا گیا۔ غرض یہ بھی ہم پر خدا کا ایک فضل ہے کہ ایسی عادل گورنمنٹ کے ماتحت ہیں۔ ( در بار شام ) مسیح کی آمد ثانی امریہ کےایک انگریز کا شہر بنایا گیا جس میں سے لکھاہے کہ بیچ کی دوبارہ آمد وقت کا یہی وقت ہے۔ وہ کل نشانات پورے ہو گئے جو آمدثانی کے پیش خیمہ تھے اور اس نے اس بیان کو بڑے بشپوں اور فلاسفروں کی شہادتوں سے قوی کیا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اصل میں ان کی یہ بات کہ مسیح کی آمد ثانی کا وقت یہی ہے اور اس کے آنے کے تمام نشانات پورے ہو گئے ہیں بالکل ہمارے منشا کے مطابق ہے اور راستی بھی اسی میں ہے ان کی وہ بات جو حق ہو اور جہاں تک وہ راستی کی حمایت میں ہوا سے رد نہ کرنا چاہیے۔ یہ لوگ ایک طرح سے ہماری خدمت کر رہے ہیں۔ اس ملک میں جہاں ہماری تبلیغ بڑی محنت اور صرف کثیر سے بھی پوری طرح سے کما حقہ نہیں