ملفوظات (جلد 4) — Page 14
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴ جلد چهارم کرانا باقی رہ جاوے گا وہ حشر کو ہوگا ۔ ہزاروں انبیاء ، دجال، کتاب، کفار، ملعون وغیرہ وغیرہ خطاب پاتے گئے ۔ قیامت میں اس لئے حشر ہوگا کہ ان کو عزت کی کرسی پر بٹھا کر اور مکتبوں کو ذلت کا عذاب دے کر دکھلا یا جاوے گا کہ دیکھو کون صادق اور کون کا ذب تھا۔ سوال کیا کہ حشر کو جسم ہوگا یا نہیں اور یہی جسم ہو گا یا کوئی اور؟ فرمایا۔ حشر میں جسم دیئے جاویں گے یہ نہیں کہ یہی ہوگا یا کوئی اور ۔ یہ مانی ہوئی بات ہے کہ تین سال کے بعد پہلا جسم انسانی ضائع ہو جاتا اور اس کا قائم مقام نیا آ جاتا ہے پھر ہمارا ایمان ہے کہ ان کو بدن ملے گا مگر جس طرح اس علیم کے علم میں ہے۔ ہمارا اس پر ایمان ہے کہ وہ قادر ہے کہ اس بدن سے بھی کچھ حصہ اسے دے دے اور اس کے سوا اور جسم بھی عطا کرے سوائے ذات باری کے کسی کی یہ صفت نہیں کہ ہمیشہ ابدی رہے اور یہ طاقت خدا ہی انسان کو دے گا کہ پھر وہ ابدی بن جاوے۔ پھر سوال کیا کیوں یہ مرتبہ صرف انسان کو ہی ملے گا اور حیوانات کو نہیں دیا جاوے گا ؟ فرمایا۔اس پر ہم جھگڑ نہیں سکتے جیسے ایک شخص سخاوت کرتا ہے ایک فقیر کو وہ پیسہ دیتا ہے اور دوسرے کو روپیہ۔ مگر جس کو وہ پیسہ ملا ہے وہ حق نہیں رکھتا کہ جھگڑا کرے۔ بہشت والوں کو تو ابدی رہنا ہوگا اور حدیثوں میں بھی آیا ہے کہ دوزخی ہمیشہ اس میں نہیں رہیں گے۔ جیسے فرمایا يَأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ کیونکہ وہ بھی آخر خدا کے ہاتھ سے بنے ہوئے ہیں ان پر کوئی زمانہ ایسا آنا چاہیے کہ ان کو عذاب کی تخفیف دی جاوے۔ لے الحکم میں یہ عبارت یوں ہے ۔ فرمایا۔ ”جسم تو ہوں گے مگر یہ نہیں لکھا کہ یہی یا اور ۔ تین سال کے بعد پہلا جسم تو رہتا نہیں اس کا قائم مقام نیا جسم آجاتا ہے پس ہمارا یہ ایمان ہے کہ ایک جسم دیا جاوے گا جیسا اس علیم کے علم میں ہے وہ قادر ہے کہ اس بدن سے بھی کچھ حصہ لے اور ضرور لے گا اور اس حصہ کو بھی جلالی رنگ میں غیر فانی کر دے۔ سوائے ذات باری تعالیٰ کے کسی دوسرے کی یہ صفت نہیں کہ ابدالآباد تک رہے انسان کو غیر فانی جسم جو دیا جاوے گا یہ خدا کا عطیہ ہوگا۔“ الحکم جلدے نمبر ۲ مورخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۳ء صفحه ۷،۶ )