ملفوظات (جلد 4) — Page 194
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۴ جلد چهارم اپنے تعلقات پیدا کر لیے ہیں ۔ وہاں کے چند آدمیوں نے مجھے مستعد کیا کہ قادیان جا کر کچھ حالات دیکھ آئیں۔ حضرت اقدس ۔ امرتسر میں آپ کتنے دن ٹھہرے؟ نو وارد ۔ پانچ چھ روز ۔ حضرت اقدس ۔ کیا کام تھا ؟ نو وارد محض یہاں کے حالات کا معلوم کرنا اور راستہ وغیرہ کی واقفیت حاصل کرنا۔ حضرت اقدس ۔ کیا آپ کچھ عرصہ یہاں ٹھہریں گے؟ نو وارد کل جاؤں گا۔ حضرت اقدس ۔ آپ دریافت حالات کے لیے آئے اور کل جائیں گے اس سے کیا فائدہ ہوا؟ یہ تو صرف آپ کو تکلیف ہوئی۔ دین کے کام میں آہستگی سے دریافت کرنا چاہیے تا کہ وقتاً فوقتاً بہت سی معلومات ہو جائیں ۔ جب وہاں آپ کے دوستوں نے آپ کو منتخب کیا تھا تو آپ کو یہاں فیصلہ کرنا چاہیے۔ جب آپ ایک ہی رات کے بعد چلے جائیں گے تو آپ کیا رائے قائم کر سکیں گے؟ اب ہم نماز پڑھ کر چلے جائیں گے ۔ آپ کو کوئی موقع ہی نہ ملا ۔ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ۱۱۹) کہ صادقوں کے ساتھ رہو یہ معیت چاہتی ہے کہ کسی وقت تک صحبت میں رہے کیونکہ جب تک ایک حد تک صحبت میں نہ رہے وہ اسرار اور حقائق گھل نہیں سکتے ۔ وہ اجنبی کا اجنبی رہے گا اور بیگا نہ ہی رہتا ہے اور کوئی رائے قائم کرنے کے قابل نہیں ہو سکتا ۔ نو وارد ۔ میں جو پوچھوں گا اس کا آپ جواب دے دیں ۔ اس سے ایک رائے قائم ہو سکتی ہے۔ جن لوگوں نے مجھے بھیجا ہے انہوں نے تقیہ لے تو کیا نہیں کہ جا کر کیا دیکھوں ۔ آپ چونکہ ہمارے مذہب میں ہیں اور آپ نے ایک دعوی کیا ہے اس کا دریافت کرنا ہم پر فرض ہے ۔ اغلبا یہ لفظ تقید ہے جو سہو کتابت سے تقیہ لکھا گیا ہے البدر میں اس کا ذکر یوں ہے کہ اگر چہ وہ لوگ جن کی طرف سے میں آیا ہوں آپ کا ذکر ہنسی اور تمسخر سے کرتے ہیں مگر میرا یہ خیال نہیں ہے البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۴۴)