ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 12 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 12

ملفوظات حضرت مسیح موعود الم جلد چهارم کی درخواست کی تو وہ علیحدہ ہو کر مجھے پوچھنے لگا میں نے کہا لوگ تو مجھ سے علیحدہ ہو گئے ہیں ۔ کہا نہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں معاً میری حالت کشف جاتی رہی ۔ فرمایا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ اگر صرف حدیث کو مدار شریعت رکھا جاوے حدیث کا مرتبہ اور قرآن کو ترک کر دیا جاوے تو یہ ایک تباہی کا نشان ہے جو حدیثیں قرآن کے موافق ہیں ان کی تو عزت کرو اور تعظیم کرو اور دوسری کو ترک کرو۔ عرب صاحب نے سوال کیا کہ قیامت کے دن لوگ جس طرح قیامت کے روز حشر کیسے ہوگا مرتے ہیں اس طرح اول و آخر مبر وار حاضرہوں گے یا ایک دم مرتے ہیں طرح اول و حاضر دم تمام متقدمین و متاخرین اکٹھے اٹھیں گے۔ فرمایا۔ الگ الگ ثابت نہیں سب اکٹھے اٹھیں گے ماننا پڑتا ہے کہ ہمارا خدا بڑا قادر خدا ہے۔ دیکھو نطفہ کیا چیز ہے اور پھر اس سے کس طرح انسان کامل بن جاتا ہے ہر شخص جو خدا کو ماننے والا ہے سورج چاند وغیرہ اجسام کو دیکھ کر کیا وہ یہ بتلا سکتا ہے کہ کن چھکڑوں پر یہ اسباب آیا تھا اور ان کا مصالح کہاں سے آیا تھا یہی ماننا پڑے گا اور پڑتا ہے کہ اِنَّمَا أَمْرُةَ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ (لیس: ۸۳) پھر ہم کو ایسا ہی ماننا چاہیے کہ قیامت کے روز سب کو یک دم مقابلہ کرا دے گا اور جن حسرتوں میں مومن مر گئے تھے اور ان کو معلوم نہ تھا کہ ہمارے مخالفوں کا کیا حال ہوا وہ ان کو دکھلا دیا جاوے گا کہ دیکھو اے راست باز بندو! یہ منکرین کا حال ہے تب ان راست بازوں کو لذت آوے گی۔ پس خدا کو ہم مان ہی نہیں سکتے جب تک کہ اس کو صاحب مقدرت کلی نہ مان لیں۔ پہلے اس کے کاموں کو دیکھو ہم سب کو ماننا پڑتا ہے کہ ان کا کوئی فاعل ہے پھر کیا وجہ کہ ایک حصہ میں اس کو مانتا اور ایک حصہ میں اس کا انکار کرتا اور شبہات میں پڑتا۔ یا تو پہلی دفعہ سے ہی انکار کرنا چاہیے یا بکلی ماننا۔ خدا کی صفات اور کام غیر محدود ہیں کیا دنیا کی ہزار ہا مخلوق اس بات کی کافی دلیل نہیں کہ خدا بڑا قوی خدا ہے ۔