ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 173

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۳ جلد چهارم کوئی بات دل میں ڈالتا ہے تو دلوں کو ایسا پکڑتا ہے کہ باز اس طرح چڑیا کو پکڑ نہیں سکتا ۔ اصل سلطنت اُسی کی سلطنت ہے۔ کیسے سے کیسا دشمن ہو مگر وہ اس کو بھی پکڑ لیتا ہے۔ رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ بالکل ٹھیک ہے لوگ ملائکہ سے تعجب کرتے ہیں۔ میرے نزدیک تو یہ سب ملائک ہیں ۔ ورنہ لقمہ جو اندر ڈالا جاتا ہے اگر وہ نہ چاہے تو کب ہضم ہو سکتا ہے۔ بغیر کامل تصرف کے خدا کی خدائی چل سکتی ہی نہیں إِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ (بنی اسراءیل : ۴۵) کے یہی معنے ہیں۔ اسلام اور ایمان وہی ہے جو اس حد تک پہنچے اور اسی کو چھوڑ چھاڑ کر اب صرف رسم اور عادت رہ گئی ہے۔ جن کی یہ حالت ہے ان کو دعاؤں میں کیا مزا آ سکتا ہے۔ عقیدہ وحدت الوجود او جالندھر سے ایک صاحب تشریف لائے ہوئے تھے انہوں نے عرض کی کہ وہاں وجودیوں کا بہت زور ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اصل میں ان لوگوں کا اباحتی رنگ ہے۔ دہریوں میں اور ان میں بہت کم فرق ہے ان کی زندگی بے قیدی کی زندگی ہوتی ہے۔ خدا کے حدود اور فرائض کا بالکل فرق نہیں کرتے ۔ نشہ وغیرہ پیتے ہیں ، ناچ رنگ دیکھتے ہیں۔ زنا کو اصول سمجھتے ہیں ۔ ایک دفعہ ایک وجودی میرے پاس آیا اور کہا کہ میں خدا ہوں ۔ اُس نے ہاتھ آگے بڑھایا ہوا تھا میں نے اُس کے ہاتھ پر زور سے چٹکی کاٹی حتی کہ اس کی چیخ نکل گئی تو میں نے کہا کہ خدا کو در دبھی ہوا کرتا ہے اور چیخ بھی نکلا کرتی ہے؟ پھر نو وارد صاحب نے بیان کیا کہ وہ کہا کرتے ہیں کہ انسان کو خدا نے اپنی صورت پر بنایا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ توریت میں یہ ذکر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تَخَلَّفُوا بِأَخْلَاقِ الله یعنی خدا نے چاہا کہ انسان خدا کے اخلاق پر چلے۔ جیسے وہ ہر ایک عیب اور بدی سے پاک ہے یہ بھی پاک ہو۔ جیسے اس میں عدل ، انصاف اور علم کی صفت ہے وہی ا ور علم کی صفت ہے وہی اس میں ہو اس لیے اس خُلق کو احسن تقویم کہا ہے لَقَدْ خَلَقْنَا البدر جلد ۲ نمبر ۶ مورخه ۲۷ فروری ۱۹۰۳ ء صفحه ۴۳