ملفوظات (جلد 4) — Page 167
ملفوظات حضرت مسیح موعود انجیل کے ذکر پر فرمایا کہ ۱۶۷ جلد چهارم عیسائی لوگ جو حضرت عیسیٰ کو خاتم نبوت کہتے ہیں اور الہام کا دروازہ بند کرتے ہیں حالانکہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ مسیح کے بعد ایک یوحنا گذرا ہے جس نے نبوت کی اور اس کے مکاشفات کی ایک الگ کتاب انجیلوں میں ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں ۔ ختم نبوۃ پر محی الدین ابن عربی کا یہی مذہب ہے کہ تشریعی نبوت ختم ہو چکی ورنہ ان کے نزدیک مکالمہ الہی اور نبوۃ میں کوئی فرق نہیں۔ میں ہے اس میں علماء کو بہت غلطی لگی ہے۔ خود قرآن میں التبیین جس پرال پڑا ہے موجود ہے۔ اس سے مراد یہی ہے کہ جو نبوت نئی شریعت لانے والی تھی وہ اب ختم ہو گئی ہے ۔ ہاں اگر کوئی شخص کسی نئی شریعت کا دعویٰ کرے تو کافر ہے اور اگر سرے سے مکالمہ الہی سے انکار کیا جاوے تو پھر اسلام تو ایک مردہ مذہب ہوگا اور اس میں اور دوسرے مذاہب میں کوئی فرق نہ رہے گا کیونکہ مکالمہ کے بعد اور کوئی ایسی بات نہیں رہتی کہ وہ ہو تو اسے نبی کہا جاوے۔ نبوت کی علامت مکالمہ ہے لیکن اب اہلِ اسلام نے جو یہ اپنا مذہب قرار دیا ہے کہ اب مکالمہ کا دروازہ بند ہے۔ اس سے تو یہ ظاہر ہے کہ خدا کا بڑا قہر اسی اُمت پر ہے۔ لے اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : ۷،۶) کی دعا ایک بڑا دھوکا ہوگی اور اُس کی تعلیم کا کیا فائدہ ہوا گویا یہ عبث تعلیم خدا نے دی۔ ہاں نبوت کے واسطے کثرت مکالمہ شرط ہے نبوت کے واسطے کثرت مکالمہ شرط ہے نہیں کہ ایک دو فقرہ ، دو فقرہ گاہ گاہ الہام ہوئے بلکہ نبوت کے مکالمہ میں ضروری ہے کہ اس کی کیفیت صاف ہو اور کثرت سے ہو۔ لے الحکم میں یہ عبارت یوں ہے ۔ ”مکالمہ الہی کا اگر انکار ہو تو پھر اسلام ایک مردہ مذہب ہوگا ۔ اگر یہ دروازہ بھی بند ہے تو اس اُمت پر قہر ہوا ، خیر الامم نہ ہوئی اور اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دعا بے سود ٹھہری۔ تعجب ہے کہ یہود تو یہ امت بن جاوے اور مسیح دوسروں سے آوے۔“ الحکم جلدے نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۴ )