ملفوظات (جلد 4) — Page 163
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۳ جلد چهارم راضی نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں مطلق نہیں ۔ دل ٹیڑھے ہو گئے ہیں ۔ مولوی عبد الکریم صاحب نے بیان کیا کہ سول مردم شماری میں خلاف واقعہ رپورٹ ملٹری گزٹ میں چونکہ حسب دستور مردم شماری پر ریمارک لکھا جا رہا ہے انہوں نے اس غلطی کو شائع کر دیا ہے کہ احمد یہ فرقہ کا بانی مرزا غلام احمد ہے اس نے اول ابتدا چوڑھوں سے کی اور پھر ترقی کرتے کرتے اعلیٰ طبقہ کے آدمی اس کے پیرو ہو گئے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس کی بہت جلد تر دید ہونی چاہیے یہ تو ہماری عزت پر بہت سخت حملہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ اسی وقت حکم صادر ہوا کہ ایک خط جلد تر انگریزی زبان میں چھاپ کر گورنمنٹ اور مردم شماری کے سپرنٹنڈنٹ کے پاس بھیجا جاوے تا کہ اس غلطی کا ازالہ ہو اور لکھا جاوے کہ گورنمنٹ کو معلوم ہوگا کہ چوڑھے ایک ہواور لکھا جرائم پیشہ قوم ہے ان سے ہمارا کبھی بھی تعلق نہیں ہوا۔ ایک شخص نامی مرزا امام الدین قادیان میں ہے جس کی ہم سے ۳۰ برس سے زیادہ سے عداوت چلی آتی ہے اور کوئی میل ملاپ اس کا اور ہمارا نہیں ہے۔ اس کا تعلق چوڑھوں سے رہا اور اب بھی ہے۔ تو ایک فریق جو کہ ہمارا دشمن ہے اور اس کا تعلق چوڑھوں سے ہے اس کے عادات اور چال چلن کو ہم پر تھاپ دینا سخت درجہ کی دل آزاری ہماری اور ہماری جماعت کی ہے۔ اور یہ عزت پر سخت حملہ ہے اور ایک بڑی مکروہ کارروائی ہے جو کہ سرزد ہوئی ہے۔ چوڑ ھے تو در کنار ہمیں تو ایسے لوگوں سے بھی تعلق نہیں ہے جو کہ ادنی درجہ کے مسلمان اور رذیل صفات رکھتے ہیں۔ ہماری جماعت میں عمدہ اور اعلیٰ درجہ کے نیک چال چلن کے لوگ ہیں ۔ اور وہ سب حسنہ صفات سے متصف ہیں۔ اور ایسے ہی لوگوں کو ہم ساتھ رکھتے ہیں ۔ گورنمنٹ کو چاہیے کہ رکھتے ہیں ۔ گورنمنٹ صاحب ضلع گورداسپور سے اس امر کی تحقیقات کرائے اور عدل سے کام لے کر اس آلودگی کو ہم سے دور کرے۔ ہم خود امام الدین کو اسی لیے نفرت سے دیکھتے ہیں کہ اس کا ایسی قوم سے تعلق ہے۔ پنجاب میں یہ مسلم امر ہے کہ جس شخص کے زیادہ تر تعلقات چوڑھوں سے ہوں اس کا چال چلن لے مرادڈ پٹی کمشنر صاحب گورداسپور (مرتب)