ملفوظات (جلد 4) — Page 158
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۸ جلد چهارم کرتا ہے تو خود آزمائش میں پڑتا ہے اور نوبت ہلاکت تک آجاتی ہے۔ جہلم کے مقدمہ کی نسبت فرمایا کہ صحابہ کرام کا بے نظیر نمونه خدا کی طرف سے جو معلوم ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔ اسباب کیا شے ہیں کچھ بھی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری راہ میں جاؤ گے تو مُرغَبًا كَثِيرًا پاؤ گے۔ صحت نیت سے جوف جو قدم اٹھاتا ہے خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے بلکہ انسان اگر بیمار ہو تو اس کی بیماری دور ہو جاتی ہے۔ صحابہ کی نظیر دیکھ لو در اصل صحابہ کرام کے نمونے ایسے ہیں کہ کل انبیاء کی نظیر ہیں۔ خدا کو تو عمل ہی پسند ہیں ۔ انہوں نے بکریوں کی طرح اپنی جان دی اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے نبوت کی ایک ہیکل آدم سے لے کر چلی آتی تھی اور سمجھ نہ آتی تھی مگر صحابہ کرام نے چمکا کر دکھلا دی اور بتلا دیا کہ صدق اور وفا اسے کہتے ہیں ۔ حضرت عیسیٰ کا تو حال ہی نہ پوچھو۔ موسیٰ کو کسی نے فروخت نہ کیا مگر عیسیٰ کو ان کے حواریوں نے تیس روپے لے کر فروخت کر دیا۔ قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ حواریوں کو عیسی علیہ السلام کی صداقت پر شک تھا بھی تو مائدہ مانگا اور کہاؤ نَعْلَمَ أَنْ قَد صَدَقْتَنَا (المائدة: (۱۱۴) تاکہ تیرا سچا اور جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول مائدہ سے پیشتر ان کی حالت نعلم کی نہ تھی پھر جیسی بے آرامی کی زندگی انہوں نے بسر کی اس کی نظیر کہیں نہیں پائی جاتی ۔ صحابہ کرام کا گروہ عجیب گروه، قابلِ قدر اور قابل پیروی گروہ تھا۔ ان کے دل یقین سے بھر گئے ہوئے تھے جب یقین ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ اوّل مال وغیرہ دینے کو جی چاہتا ہے پھر جب بڑھ جاتا ہے تو صاحب یقین خدا کی خاطر جان دینے کو طیار ہو جاتا ہے۔ ( بوقت مغرب وعشاء ) مقدمہ بازی کے اوپر ذکر چلا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اب اس وقت دنیا کا یہ حال ہے کہ لوگوں نے خدا کا کوئی خانہ خالی نہیں رکھا۔ گذشتہ کارروائی کو یہ لوگ خیال نہیں کرتے اور نہ تجربہ کرتے ہیں۔ کیا کسی کو خیال تھا مقدمہ جہلم کا یہ نتیجہ ہوگا ۔ پھر جس خدا نے قبل از وقت بتلایا اور ہم نے دو صد سے زیادہ کتب چھاپ کر فیصلہ سے پیشتر شائع کر دیں جس میں