ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 155

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۵ جلد چهارم عجب خان صاحب کے تحصیلدار نے حضرت اقدس سے استفسار کیا کہ اگر مصدق کے پیچھے نماز کسی مقام کے لوگ اجنبی ہوں اور ہمیں علم نہ ہو کہ وہ اور احمدی جماعت میں ہیں یا نہ تو ان کے پیچھے نماز پڑھی جاوے یا کہ نہ؟ فرمایا۔ ناواقف امام سے پوچھ لوا گر وہ مصدق ہو تو نماز اس کے پیچھے پڑھی جاوے ورنہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک جماعت الگ بنانا چاہتا ہے اس لیے اس کے منشا کی کیوں مخالفت کی جاوے جن لوگوں سے وہ جدا کرنا چاہتا ہے بار باران میں گھسنا یہی تو اس کی منشا کے مخالف ہے۔ پھر تحصیلدار صاحب نے پوچھا کہ اپنے مقام پر جا کر ہمارا بڑا کام کیا ایک احمدی کے فرائض ہونا چاہیے؟ چاہیے؟ فرمایا کہ ہماری دعوت کو لوگوں کو سنایا جاوے۔ ہماری تعلیم سے ان کو واقف کیا جاوے۔ تقویٰ اور توحید اور سچا اسلام ان کو سکھا یا جاوے۔ اس کے بعد تین احباب نے بیعت کی۔ بیعت کے بعد ان میں سے رویا ہا یا کے ذریعہ ہدایت ایک صاحب نے حضرت کی خدمت میں عرض کی کہ میں ایک شریر آدمی تھا اور مجھ کو جھوٹے دعوے کرنے اور لوگوں کے حقوق چھین لینے اور ضبط کرنے کی خوب مشق ل الحکم میں اس ڈائری پر ۲۰ جنوری ۱۹۰۳ء کی تاریخ درج ہے جو سہو معلوم ہوتا ہے۔ ۲۰ کا ہندسہ بھی پورا روشن نہیں بلکہ مٹا مٹا سا ہے۔البدر میں ۲۲ ۲۱،۲۰، سب تاریخوں کی مسلسل الگ الگ ڈائری موجود ہے۔ الحکم میں اگر اس ڈائری کو ۲۰ کی سمجھا جائے تو ۲۱ ر کی کوئی ڈائری وہاں درج نہیں ۔ قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ دراصل یہ ۲۱ جنوری کی ہی ڈائری ہے جس پر الحکم میں سہو کتابت یا سہو طباعت سے ۲۰ جنوری کی تاریخ لکھی گئی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ دو بہر رحال الحکم کی اس ڈائری میں خان عجب خان صاحب کا استفسار اور ر حضرت حضر اقدس کا جواب یوں درج ہے جناب خان عجب خان صاحب آف زیدہ کے استفسار پر کہ بعض اوقات ایسے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے جو اس سلسلہ سے اجنبی اور نا واقف ہوتے ہیں ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کریں یا نہیں؟ فرمایا ۔ اوّل تو کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں لوگ واقف نہ ہوں اور جہاں ایسی صورت ہو کہ لوگ ہم سے اجنبی اور ناواقف ہوں تو ان کے سامنے اپنے سلسلہ کو پیش کر کے دیکھ لیا اگر تصدیق کریں تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو ورنہ ہرگز نہیں اکیلے پڑھ لو۔ خدا تعالیٰ اس وقت چاہتا ہے کہ ایک جماعت طیار کرے پھر جان بوجھ کر ان لوگوں میں گھسنا جن سے وہ الگ کرنا چاہتا ہے منشاء الہی کی مخالفت ہے۔“ (الحکم جلدے نمبر ۵ مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۱۳ )