ملفوظات (جلد 4) — Page 153
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۳ جلد چهارم ۲۰ جنوری ۱۹۰۳ء بروز سه شنبه ( بوقت عصر ) فرمایا کہ خدا تعالیٰ کیسے تاڑ تاڑ نشان دکھلا رہا ہے۔ ہم ابھی عدالت نشانات کی کثرت میں پیش بھی نہ ہوئے تھے اور نہکسی کو علوم تھا کہ انجام کیا ہوگا لیکن مواہب الرحمن میں لکھا ہوا تھا کہ کرم دین کا مقدمہ خارج ہو جاوے گا اور وہ ۱۵ تاریخ سے ہی تقسیم ہو رہی تھی بلکہ بعض ہمارے دوستوں نے کرم دین کو دکھلا بھی دیا کہ تمہارے مقدمہ کی نسبت یہ کچھ لکھا ہے۔ ( مجلس قبل از عشاء ) فرمایا۔ کھانسی کا زور ہو گیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے ایک رویا دریائے نیل والی سنائی جو کہ البدر جلد ۲ صفحہ ۷ پر شائع ایک رویا ہو چکی ہے وہاں غلطی سے ۱۹ تاریخ لکھی ہے اصلاح کر لی جاوے ) ! ( اس کے بعد سراج الاخبار کی دروغ بیانی کا ذکر ہوتا رہا سراج الاخبار جہلم کی دروغ بیانی کہ اس نے لکھا ہے کہ جہلم میں جس قدر چوم لوگوں میں ہجوم ہجو البدر جلد ۲ نمبر او ۲ مورخه ۲۳ ، ۳۰ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحہ ے میں یہ رؤیا یوں درج ہے کہ میں مصر کے دریائے نیل پر کھڑا ہوں اور میرے ساتھ بہت سے بنی اسرائیل ہیں اور میں اپنے آپ کو موسیٰ سمجھتا ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم بھاگے چلے آتے ہیں۔ نظر اُٹھا کر پیچھے دیکھا تو معلوم ہوا کہ فرعون ایک لشکر کثیر کے ساتھ ہمارے تعاقب میں ہے اور اس کے ساتھ بہت سامان مثل گھوڑے وگاڑیوں ورتھوں کے ہے وہ ہمارے بہت قریب آگیا ہے۔ میرے ساتھی بنی اسرائیل بہت گھبرائے ہوئے ہیں اور اکثر ان میں سے بے دل ہو گئے ہیں اور بلند آواز سے چلاتے ہیں کہ اے موسیٰ ! ہم پکڑے گئے تو میں نے بلند آواز سے کہا گلا إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِینِ اتنے میں میں بیدار ہو گیا اور زبان پر یہی الفاظ جاری تھے، نوٹ ۔ الحکم جلد ۷ نمبر ۴ صفحہ ۱۵ پر بھی یہ رو یا ۱۹ جنوری کی ہی بیان شدہ لکھی ہے اور البدر جلد ۲ نمبر ۲،۱ صفحہ ے پر بھی ۱۹ جنوری کی بیان کی گئی ہے لیکن البدر جلد ۲ نمبر ۵ صفحہ ۳۴ میں لکھا ہے کہ یہ رویا حضور نے ۲۰ جنوری کی شام کی مجلس میں بیان فرمائی تھی۔ پہلے غلطی سے ۱۹ جنوری کی تاریخ لکھی گئی ہے واللہ اعلم بالصواب (مرتب)۔