ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 151

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۱ جلد چهارم ہے۔ زیغ رکھنے والا کبھی محبوب نہیں بن سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی ازدیاد اور تجدید کے لیے ہر نماز میں درود شریف کا پڑھنا ضروری ہو گیا تا کہ اس دعا کی قبولیت کے لیے استقامت کا ایک ذریعہ ہاتھ آئے۔ یہ ایک مانی ہوئی بات ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ظلی طور پر قیامت تک رہتا ہے۔ صوفی کہتے ہیں کہ مجددین کے اسماء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہی ہوتے ہیں۔ یعنی ظلی طور پر وہی نام ان کو کسی ایک رنگ میں دیا جاتا ہے۔ شیعہ لوگوں کا یہ خیال کہ ولایت کا سلسلہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پرختم ہو گیا محض غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کمالات سلسلہ نبوت میں رکھے ہیں ، مجموعی طور پر وہ ہادی کامل پر ختم ہو چکے ۔ اب ظلی طور پر ہمیشہ کے لیے مجدد دین کے ذریعہ سے دنیا پر اپنا پر تو ڈالتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو قیامت تک رکھے گا۔ میں پھر کہتا ہوں کہ اس وقت بھی خدائے تعالیٰ نے دنیا کو محروم نہیں چھوڑا اور ایک سلسلہ قائم کیا ہے۔ ہاں اپنے ہاتھ سے اس نے ایک بندہ کو کھڑا کیا اور وہ وہی ہے جو تم میں بیٹھا ہوا بول رہا ہے۔ اب خدا تعالیٰ کے نزول رحمت کا وقت ہے۔ دعائیں مانگو۔ استقامت چاہو اور درود شریف جو حصول استقامت کا ایک زبر دست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو۔ مگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسن اور احسان کو مد نظر رکھ کر اور آپ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لیے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔ قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں ۔ اول إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي - قبولیت دعا کے ذرائع دوم تا نن انا علم علمه وا دوم يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ( الاحزاب: ۵۷) تیسرا موہبتِ الہی ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ عام قانون ہے کہ وہ نفوسِ انبیاء کی طرح دنیا میں بہت سے نفوس قدسیہ ایسے پیدا کرتا ہے جو فطرتاً استقامت رکھتے ہیں ۔ یہ بات بھی یاد رکھو کہ فطرتا انسان تین قسم کے ہوتے ہیں ایک فطر تا ظالم لنفسہ دوسرے مقتصد یعنی کچھ نیکی سے بہرہ ور اور کچھ برائی سے آلودہ ۔ سوم برے کاموں سے متنفر اور سابق بالخیرات ۔ کا پس یہ مایه