ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 147

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۷ جلد چهارم کی کھلی ہوئی کتاب اس کے سامنے ہوتی ہے۔ دنیا میں جس قدر چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں وہ انسان کے لیے جسمانی اور روحانی دونوں قسم کی راحتوں کے سامان ہیں ۔ میں نے حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کے تذکرے میں پڑھا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے۔ میں نے مراقبہ بلی سے سیکھا ہے۔ اگر انسان نہایت پر غور نگاہ سے دیکھے تو اسے معلوم ہوگا کہ جانور کھلے طور پر خُلق رکھتے ہیں ۔ میرے مذہب میں سب چرند و پرند ایک خُلق ہیں اور انسان اس کے مجموعہ کا نام ہے یہ نفس جامع ہے اور اسی لیے عالم صغیر کہلاتا ہے کہ کل مخلوق کے کمال انسان میں یکجائی طور پر جمع ہیں اور کل انسانوں کے کمالات بہیئت مجموعی ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہیں اور اسی لیے آپ کل دنیا کے لیے مبعوث ہوئے اور رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ کہلائے ۔ اِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (القلم : ۵) میں بھی اسی مجموعہ کمالات انسانی کی طرف اشارہ ہے اسی صورت میں عظمت اخلاق محمدی کی نسبت غور کر سکتا ہے اور یہی وجہ تھی کہ آپ - پر نبوت کاملہ کے کمالات ختم ہوئے یہ ایک مسلّم بات ہے کہ کسی چیز کا خاتمہ اس کی علت غائی کے اختتام پر ہوتا ہے۔ جیسے کتاب کے جب گل مطالب بیان ہو جاتے ہیں تو اس کا خاتمہ ہوجاتا ہے اسی طرح پر رسالت اور نبوت کی علت غائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوئی اور یہی ختم نبوت کے معنے ہیں ۔ کیونکہ یہ ایک سلسلہ ہے جو چلا آیا ہے اور کامل انسان پر آکر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ پر میں ہتا ہوں کہ استقامت جس استقامت ہی انسان کا اسم اعظم سے ہی ی ی ی ی جلا دیا جاتا ہے کہ استعلام اہے پر میں نے ذکر چھیڑا تھا وہی ہے جس کو صوفی لوگ اپنی اصطلاح میں فنا کہتے ہیں اور اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة:1) کے معنے بھی فناہی کے کرتے ہیں۔ یعنی روح ، جوش اور ارادے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہی ہو جائیں اور اپنے جذبات اور نفسانی خواہشیں بالکل مر جائیں۔ بعض انسان جو اللہ تعالیٰ کی خواہش اور ارادے کو اپنے ارادوں اور جوشوں پر مقدم نہیں کرتے وہ اکثر دفعہ دنیا ہی کے جوشوں اور ارادوں کی ناکامیوں میں اس دنیا سے اُٹھ جاتے ہیں۔ ہمارے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر کو مقدمات میں بڑی مصروفیت رہتی تھی اور ان میں وہ یہاں تک منہمک اور محور ہتے تھے کہ آخران ناکامیوں نے ان کی