ملفوظات (جلد 4) — Page 145
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۵ جلد چهارم ایک فلسفہ رکھا ہوا ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو اس پر غور کرتے ہیں اور سوچتے ہیں ۔ مقام پر یہ بات بھی جتلانا گناہ کی حقیقت اور اس سے بچنے کے ذرائع چاہتاہوں کہ نا کیوں کر پیدا ہوتا ہے؟ گناہ اس سوال کا جواب عام فہم الفاظ میں یہی ہے کہ جب غیر اللہ کی محبت انسانی دل پر مستولی ہوتی ہے تو وہ اس مصفا آئینہ پر ایک قسم کا زنگ سا پیدا کرتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ بالکل تاریک ہو جاتا ہے اور غیریت اپنا گھر کر کے اسے خدا سے دور ڈال دیتی ہے اور یہی شرک کی جڑ ہے۔ لیکن جس قلب پر اللہ تعالیٰ اور صرف اللہ تعالیٰ کی محبت اپنا قبضہ کرتی ہے وہ غیرت کو جلا کر اسے صرف اپنے لیے منتخب کر لیتی ہے پھر اس میں ایک استقامت پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اصل جگہ پر آجاتی ہے عضو کے ٹوٹنے اور پھر پڑھنے میں جس طرح سے تکلیف ہوتی ہے لیکن ٹوٹا ہوا عضو کہیں زیادہ تکلیف دیتا ہے جو اسے صرف مکرر چڑھنے سے عارضی طور پر ہوتی ہے اور پھر ایک راحت کا سامان ہو جاتی ہے لیکن اگر وہ عضو اسی طرح ٹوٹا رہے تو ایک وقت آجاتا ہے کہ اس کو بالکل کاٹنا پڑتا ہے اسی طرح سے استقامت کے حصول کے لیے اولاً ابتدائی مدارج اور مراتب پر کسی قدر تکلیف اور مشکلات بھی پیش آتی ہیں لیکن اس کے حاصل ہونے پر ایک دائمی راحت اور خوشی پیدا ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ ارشاد ہوا فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ (هود: ۱۱۳) تو لکھا ہے کہ آپ کے کوئی سفید بال نہ تھا پھر سفید بال آنے لگے تو آپ نے فرمایا مجھے سورۂ ہود نے بوڑھا کر دیا۔ غرض یہ ہے کہ جب تک انسان موت کا احساس نہ کرے وہ نیکیوں کی طرف جھک نہیں سکتا۔ میں نے بتلایا ہے کہ گناہ غیر اللہ کی محبت دل میں پیدا ہونے سے پیدا ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ دل پر غلبہ کر لیتا ہے ۔ پس گناہ سے بچنے اور محفوظ رہنے کے لیے یہ بھی ایک ذریعہ ہے کہ انسان موت کو یاد رکھے اور خدائے تعالیٰ کے عجائباتِ قدرت میں غور کرتا رہے کیونکہ اس سے محبت الہی اور ایمان بڑھتا ہے اور جب خدائے تعالیٰ کی محبت دل میں پیدا ہو جائے تو وہ گناہ کو خود جلا کر بھسم کر جاتی ہے۔ دوسرا ذریعہ گناہ سے بچنے کا احساسِ موت ہے۔ اگر انسان موت کو اپنے سامنے رکھے تو وہ ان