ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 7 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 7

ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد چهارم مکالمات الہیہ میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی زبان پر کلام جاری کر رہا ہے اور وہ ایسی طاقت اور شدت سے ہوتا ہے جیسے ایک فولادی میخ دستی جاتی ہے ایسی لطافت ہوتی ہے کہ گویا خدا کا کلام ہے۔ نماز پڑھو، تدبر سے پڑھو اور ادعیہ ماثورہ کے بعد اپنی زبان میں دعا نماز پڑھنے کا طریق مانگنی مطلق حرام نہیں ہے جب گدازش ہو تو سجھو کہ مجھے موقع دیا گیا ہے اس وقت کثرت سے مانگو اس قدر مانگو کہ اس نکتہ تک پہنچو کہ جس سے رقت پیدا ہو جاوے۔ یہ بات اختیاری نہیں ہوتی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ترشحات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کو چہ میں اوّل انسان کو تکلیف ہوتی ہے مگر ایک دفعہ چاشنی معلوم ہوگی تو پھر سمجھے گا جب اجنبیت جاتی رہے گی اور نظارہ قدرت الہی دیکھ لیوے گا تو پھر پیچھا نہ چھوڑے گا۔ قاعدہ کی بات ہے کہ تجربہ میں جب ایک دفعہ ایک بات تھوڑی سی آجاوے تو تحقیقات کی طرف انسان کی طبیعت میلان کرتی ہے اصل میں سب لذات خدا کی محبت میں ہیں ۔ ملعون لوگ (یعنی جو خدا سے دور ہیں ) جو زندگی بسر کرتے ہیں وہ کیا زندگی ہے۔ بادشاہ اور سلاطین کی کیا زندگیاں ہیں مثل بہائم کے ہیں ۔ جب انسان مومن ہوتا ہے تو خودان سے نفرت کرتا ہے۔ دہلی کے جلسے میں جو لوگ بڑے شوق سے جاتے ہیں صادقوں کی صحبت میں آجاؤ سوائے اس کے کہ وہاں بعض مسخ شدہ شکلوں کو دیکھیں اور کیا دیکھیں گے یہ لوگ ایسے دور دراز خیالات میں آ کر پڑے ہیں کہ جب فرشتے آ کر جان نکالیں گے تو اس وقت ان کو حسرت ہوگی ۔ ایمان لانے اور خدا کی عظمت کے دل میں ہونے کی اوّل نشانی یہ ہے کہ انسان ان تمام کو مثل کیڑوں کے خیال کرے ان کو دیکھ کر دل میں نہ تر سے کہ یہ فاخرہ لباس پہن کر گھوڑوں پر سوار ہیں۔ در حقیقت ان لوگوں کی قسمت بد اور کتوں کی سی زندگی ہے (کہ مردار دنیا پر دانت مار رہے ہیں )۔ انسان کو اگر دیکھنے کی آرزو ہو تو ان کو دیکھے جو منقطعین ہیں اور خدا کی طرف آگئے ہیں اور خدا ان کو