ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 140

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۰ جلد چهارم یہ ہے کہ نماز میں لذت اور سرور بھی عبودیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیدا ہوتا ہے جب تک اپنے آپ کو عدم محض یا مشابه بالعدم قرار دے کر جو ربوبیت کا ذاتی تقاضا ہے نہ ڈال دے اس کا فیضان اور پر تو اس پر نہیں پڑتا۔ اور اگر ایسا ہو تو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہو جاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسوی اللہ سے اسے انقطاع ہو جاتا ہے اس وقت خدائے تعالیٰ کی محبت اس پر گرتی ہے۔ اس اتصال کے وقت ان دو جوشوں سے جو اوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اور نیچے کی طرف سے عبودیت کا جوش ہوتا ہے۔ ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کا نام صلوۃ ہے جو سینات کو بھسم کر جاتی اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے جو سالک کو راستے کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے۔ اور ہر قسم کے خس و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خار و خس سے جو اس کی راہ میں ہوتے ہیں آگاہ کر کے بچاتی ہے اور یہی وہ حالت ہے جب کہ اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (العنکبوت: ۴۶) کا اطلاق اس پر ہوتا ہے کیونکہ اُس کے ہاتھ میں نہیں۔ اُس کے شمعدان دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہوا ہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلیل ، کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے پھر گناہ کا خیال اسے آکیوں کر سکتا ہے اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔ فحشاء کی طرف اس کی نظر اُٹھ ہی نہیں سکتی غرض اسے ایسی لذت ایسا سرور حاصل ہوتا ہے کہ میں نہیں سمجھ سکتا کہ اسے کیوں کر بیان کروں ۔ پھر یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جو اپنے اصلی معنوں میں نماز ہے دعا سے حاصل ہوتی ہے غیر اللہ سے سوال کرنا مؤمنا نہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے۔ کیوں کر یہ مرتبہ دعا کا اللہ ہی کے لئے ہے جب تک انسان پورے طور پر حنیف ہو کر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اسی سے نہ مانگے ۔ سچ سمجھو کہ حقیقی طور پر وہ سچا مسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں ۔ اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں ۔ جس طرح پر ایک بڑا انجن بہت سی گلوں کو چلاتا ہے۔ پس اسی طور پر جب تک