ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 131

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۱ جلد چهارم لوگ بیمار ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہلاک ہو جائیں ایسے بیماروں سے بڑھ کرکون واجب الرحم ہو سکتا ہے جو اپنی بیماری کو صحت سمجھے۔ یہی وہ مرض ہے جس کو لا علاج کہنا چاہیے۔ اور ان لوگوں پر اور بھی افسوس ہے جو خود حدیثیں پڑھتے اور پڑھاتے تھے کہ ہر صدی کے سر پر مجدد آیا کرتا ہے لیکن اس چودھویں صدی کے مجدد کا انکار کر دیا اور نہیں بتاتے کہ اس صدی پر جس میں سے ہیں سال گزر گئے کوئی مجدد آیا ہے یا نہیں؟ خود پتا نہیں دیتے اور آنے والے کا نام دجال رکھتے ہیں ۔ کیا اسلام کی اس خستہ حالی کا ۔ کا مداوا الله تعا تعالیٰ نے یہی کیا کہ بجائے ا ائے ایک مصلح اور مردِ خدا کے بھیجنے کے ایک کافر اور دجال کو بھیج دیا ؟ یہ لوگ ایسے اعتقاد رکھ کر خدا تعالیٰ ، اس کی پاک کتاب قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ۔خدا ان پر رحم کرے۔ اس وقت تقویٰ بالکل اُٹھ گیا ہے۔ اگر ملانوں کے پاس جائیں تو وہ اپنے ذاتی اور نفسانی اغراض کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ مسجدوں کو دوکانوں کا قائم مقام سمجھتے ہیں۔ اگر چار روز روٹیاں بند ہو جا ئیں تو کچھ تعجب نہیں کہ نماز پڑھنا پڑھانا ہی چھوڑ دیں ۔ اس دین کے دو ہی بڑے حصے تھے ایک تقویٰ دوسرے تائیدات سماویہ۔ مگر اب دیکھا جاتا ہے کہ یہ باتیں نہیں رہیں۔ عام طور پر تقویٰ نہیں رہا اور تائیدات سماویہ کا یہ حال ہے کہ خود تسلیم کر بیٹھے ہیں کہ مدت ہوئی ان میں نہ کوئی نشانات ہیں نہ معجزات اور نہ تائیدات سماویہ کا کوئی سلسلہ ہے۔ جلسہ مذاہب میں مولوی محمد حسین نے صاف طور پر اقرار کیا تھا کہ اب معجزات اور نشانات دکھانے والا کوئی نہیں اور یہ ثبوت ہے اس امر کا کہ تقویٰ نہیں رہی کیونکہ نشانات تو متقی کو ملتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ دین کی تائید اور نصرت کرتا ہے مگر وہ نصرت تقویٰ کے بعد آتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات اور معجزات اسی لئے عظیم الشان قوت اور زندگی کے نشانات ہیں کہ آپ سَيِّدُ الْمُتَّقِین تھے۔ آپ کی عظمت اور جلال کا خیال کر کے بھی انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اب پھر اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ آپ کا جلال دوبارہ ظاہر ہو اور آپ کے اسم احمد کی تجلی دنیا میں پھیلے اور اسی لئے اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے۔ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے اور اس کی غرض اللہ تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جلال ظاہر کرنا