ملفوظات (جلد 4) — Page 120
ملفوظات حضرت مسیح موعود پیشگوئی کی بھی تکذیب کر بیٹھتے ہیں ۔ ۱۲۰ جلد چهارم پھر مسیح موعود کے وقت کا ایک نشان طاعون کا تھا۔ انجیل ، توریت میں بھی یہ نشان موجود تھا اور قرآن شریف سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ نشان مسیح موعود کا خدا تعالی نے ٹھہرایا تھا چنانچہ فرمایا وَ إِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا (بنی اسراءیل : (۵۹) یہ باتیں معمولی نہیں ہیں بلکہ غور سے سمجھنے کے لائق ہیں اور اب دیکھ لو کہ کیا طاعون ملک میں پھیلی ہوئی ہے یا نہیں؟ اس سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ میں نے جب طاعون کے پھیلنے کی پیشگوئی کی تو ملک میں اس کی ہنسی کی گئی اور اس پر ٹھٹھا کیا گیا۔ لیکن اب ملک کی حالت اور طاعونی اموات کے نقشوں کو پڑھ کر بتائیں کہ کیا یہ پیشگوئی پوری ہوئی ہے یا نہیں؟ یہ وہ باتیں ہیں جو سمجھنے کے لائق ہیں اور ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا اعتراض کرنا کہ ہم اس وقت تسلیم کریں گے جب مغرب کی طرف سے آفتاب نکل آوے گا اس قسم کے سے گا اعتراض تو کفار ہمیشہ سے نبیوں پر کرتے آئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ماموروں کو ایسی باتیں مخالفوں سے سننی پڑی تھیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر اس قسم کی باتیں ہوں تو پھر قیامت کا نمونہ ہو جاوے اور اس دنیا کو وہ قیامت بنانا نہیں چاہتا۔ ایمان بالغیب بھی کوئی چیز ہے اگر ایسا ہو تو پھر ایمان ایمان نہیں رہتا مثلاً اگر کوئی شخص سورج پر ایمان لاوے تو بتاؤ یہ ایمان اس کو کیا نفع دے گا ؟ ایمان ہمیشہ اسی صورت اور حالت میں مفید اور نتیجہ خیز ہوتا ہے جب اس میں کوئی پہلو خفا کا بھی ہو لیکن جب کھلی بات ہو تو پھر وہ مفید نہیں ہوتا۔ دیکھو! اگر کوئی شخص پہلی رات کے چاند کو دیکھ کر بتاوے تو اُس کی تیز بینی کی تو اولین کا مقام تعریف ہوگی لیکن اگر چودھویں رات کے چاند کو جو ہر ہوتا ہے دیکھ کرشور مچاوے کہ میں نے چاند کو دیکھ لیا ہے اس کو تو سوائے مجنوں کے اور کوئی خطاب نہیں ملے گا۔ اسی طرح پر ایمان میں فراست اور تقویٰ سے کام لینا چاہیے۔ اور قرائن قویہ کو دیکھ کر تسلیم کر لینا مومن کا کام ہے ورنہ جب بالکل پردہ برانداز معاملہ ہو گیا ہے اور سارے گوشہ کھل گئے اس وقت ایک خبیث سے خبیث انسان کو بھی اعتراف کرنا پڑے گا۔ میں اس سوال پر بار بار اس لئے زور دیتا